Articles

Informative articles for education purposes
Maintaining healthy skin goes beyond using skincare products. While external factors play a role, a balanced diet with essential nutrients can significantly impact the health and appearance of your skin. Incorporating certain foods into your daily routine can promote a radiant complexion and support overall skin health. Here, we explore the top foods that can contribute to healthy skin. Fatty Fish: Fatty fish such as salmon, mackerel, and sardines are excellent sources of omega-3 fatty acids. These healthy fats help maintain the skin's integrity by keeping it moisturized and reducing inflammation. Omega-3 fatty acids also support the production of collagen, a protein that keeps the skin supple and wrinkle-free. Avocado: Avocados are packed with healthy fats, vitamins, and antioxidants. They contain monounsaturated fats, which aid in skin hydration and maintain its elasticity. Additionally, avocados provide vitamin E, a potent antioxidant that protects the skin from damage caused by free radicals and helps reduce signs of aging. Sweet Potatoes: Sweet potatoes are rich in beta-carotene, a pigment that gives them their vibrant orange color. Beta-carotene is converted into vitamin A in the body, which promotes cell turnover and helps maintain a healthy complexion. Including sweet potatoes in your diet can contribute to a smoother and more even-toned skin appearance. Berries: Berries such as strawberries, blueberries, and raspberries are bursting with antioxidants. These antioxidants help protect the skin from oxidative stress, which can accelerate aging and lead to dullness. Berries are also rich in vitamin C, which supports collagen synthesis and gives the skin a youthful glow. Spinach: Spinach is a leafy green vegetable that offers numerous benefits for skin health. It is an excellent source of vitamins A, C, and E, which are crucial for maintaining healthy skin. Additionally, spinach contains antioxidants that fight free radicals and help reduce inflammation, leading to a clearer and more radiant complexion. Nuts and Seeds: Almonds, walnuts, chia seeds, and flaxseeds are all packed with essential nutrients for healthy skin. These foods provide vitamin E, zinc, and omega-3 fatty acids, which can help protect the skin from damage, maintain its elasticity, and reduce inflammation. Including a variety of nuts and seeds in your diet can improve the overall appearance of your skin. Green Tea: Green tea is renowned for its antioxidant properties. It contains catechins, which have potent anti-inflammatory effects and can help protect the skin from sun damage. Consuming green tea regularly may contribute to a more youthful complexion and a reduced risk of skin conditions. Tomatoes: Tomatoes are an excellent source of lycopene, a powerful antioxidant that gives them their vibrant red color. Lycopene helps protect the skin from sun damage, improves skin texture, and reduces the signs of aging. Cooking tomatoes with a small amount of healthy fat enhances the absorption of lycopene. To Read More Information Click Here.....
 
Learn and explore the universe Through Quran.Yaqeen krein k Quran ko sabit kerny ki zorat nhi k wo sahi hy. Science needs to b clerify and justify its discoveries and inventions. Ilm walon k Lia kainat mein boht nishaniyan hn, wo raaz Quran kholta hy. Kbi saf saf kbi pahaki ki surat.. Ta k ghor Kia jye. Mgr is niyat sy nhi k hum Quran ko Sacha sabit krein.. Wo to Sach hy rhy Ga.Allah ka kaam Sacha or haq hi hota. Is niyat sy sekhin k ap science ko sahi sabit kr skin. Ilm ki rahin sb k Lia khuki hn. Os mein kisi mazhab firqay ki qaid nhi. ALLAH jb Quran mein ya kahta hy k tum ghor o fikr kyn nhi krty to mukhtib srf muslman nhi ya challenge to pori noh e insanity k lia hy.. Furqan Qureshi, boht scientific or logical explanation laty hn apny blogs mein.. Sharing one of his very informative blog here. Srf on k Lia jo sekhna or ghor krna janty hn.
وزیراعظم عمران خان نے کوئی نئی بات نہیں کی جس پر اتنی لے دے ہورہی ہے حالانکہ یہ بات تو اسلام کا بنیادی نکتہ ہے کہ عورت کے پردے میں رہنے میں ہی عافیت ہے ۔عمران خان کا کہناہے کہ مرد کوئی روبوٹ نہیں، اگر عورت کپڑے کم پہنے گی تو اس کا اثر تو ہو گا۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں ڈسکو یا نائٹ کلب نہیں ہیں، یہ ایک مکمل طور پر مختلف معاشرہ ہے جب آپ لوگوں کو اکسائیں گے تو ان نوجوانوں کے پاس جانے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو گی تو پھر اس کے نتائج ہوں گے۔ اس سوال پر کہ کیا واقعی خواتین کے لباس کا چناؤ ان پر جنسی تشدد کی وجہ ہے؟ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس طرح کے معاشرے میں رہتے ہیں۔ مرد کوئی روبوٹ نہیں ہے، اگر عورت کپڑے کم پہنے گی تو ا س کا اثر تو ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا جنسی جرائم کی روک تھام کیلئے معاشرے کے ہر طبقے کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمیں میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو بہتر معاشرے کی تشکیل کیلئے تیار کرنا چاہیے۔ فلموں اور ڈراموں کا اثر معاشرے کے عمومی رویے پر ہوتا ہے۔پاکستانی خواتین کو لباس دھیان سے پہننا چاہئے، اسلام صرف عورت کے حجاب پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ حجاب کے احکامات مردوں کو عورتوں سے پہلے دئیے گئے۔ وزیر ِ اعظم کی باتوں سے انکار محال ہے لیکن بلاشبہ ملکی آئین اپنی مرضی کا لباس پہننے کی اجازت دیتا ہے مگر پاکستانی خواتین کو اپنے امیج، اخلاقیات، روایات اور حدود کا خیال رکھنا چاہئے۔ شلوار قمیض بہترین لباس ہے۔ تاہم ایسا لباس منتخب کرنا چاہئے جس میں بے حیائی بالکل نہ ہو انسان اور حیوان میں بنیادی فرق ہی لباس کا ہے۔ تاہم سورہ نور میں پہلے مردوں کو ہی حکم دیا گیا ہے کہ خواتین سے پردے کے پیچھے سے خطاب کریں۔ نظریں نیچی کرنے اور اپنی حیا کی حفاظت کریں۔ عورتوں کو احکام بعد میں آتے ہیں۔گویا مرد اور عورت دونوں حجاب کے مخاطب ہیں اسلام صرف عورت کے لباس پر بات نہیں کرتا بلکہ حجاب کے جتنے احکام سورہ نور اور سورہ احزاب میں آئے ہیں انکا خطاب سب سے پہلے مردوں سے ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پر کچھ خواتین کا رد ِ عمل شدید تھا ان کی دلیل یہ ہے کہ جنسی تشدد کی شکار عورت پر نامناسب لباس کا الزام تو لگایا جاسکتاہے مگر ان کمسن بچوں کے بارے میں کیا کہیں گے جو جنسی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اگر یہی بات ہے تو ریپ آرڈیننس کیوں لایاگیا؟ جبکہ عورتوں کے تحفظ اور ہراسمنٹ کے حوالے سے قوانین موجود ہیں توپھر ڈریس پر بات کرنا مناسب نہیں۔ ایسی باتیں کرکے وزیراعظم نے گویا تسلیم کرلیا ہے کہ معاشرے میں ثقافتی گھٹن بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے مردوں کی فرسٹریشن عورتوں کے استحصال کا سبب بن رہی ہے اور اب بڑھتے بڑھتے انتہائی کم عمر بچوں تک بھی آگئی ہے جس کی بناء پر معصوم بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا جارہاہے ۔ ان حالات میں تو اگر عورتوں کو گھروں میں زنجیریں بھی ڈال دیں تو بھی اس قسم کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ ایک خاتون کی رائے میں چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں جس انداز سے درندگی کا شکار ہورہی ہیں اس میں تو لباس کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عورتوں اور بچوں کے تحفظ کیلئے موجود قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے مجرم کو پکڑنے کی بجائے جنسی تشدد کی شکار عورت پر نا مناسب لباس پہننے کا الزام عجب منطق ہے حالانکہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا کپڑوں سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس طرح کے بیانات سے خواتین اور بچے مزید خطرے میں پڑرہے ہیں اس حوالے سے ہمارے قوانین واضح ہیں کہ خواتین کا احترام دیکھنے والے کی ذمہ داری ہے کسی مرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ لباس کو عورتوں پر تشدد اور جرائم کی وجہ قرار دے۔ وزیراعظم کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت ہے کیا وہ اس طرح کے بیانات سے مجرموں کو جواز فراہم کر رہے ہیں۔ جنسی زیادتی میں خواتین کا کوئی اقدام نہیں ہوتا بلکہ یہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد کا ناپاک فیصلہ ہوتا ہے ایسے بیانات ناکامی کا اعتراف ہے وہ خواتین پر تشدد کرنے والوں یا ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو روکنے میں ناکامی پر ایسا جواز پیش کر رہے ہیں جسے کوئی ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ کیا دیہات میں ہونے والے جرائم کی وجہ بھی لباس ہے یہ تو جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ افزائی کر نے والی بات ہے کہ درندوں کو سزا دینے کی بجائے عورتوں پر شرمناک الزام لگادیاجائے سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو بچیاں پردے میں ہوتی ہیں، ان کے ساتھ زیادتی کا ذمہ دار کون ہے؟ افسوس وزیراعظم یہ نہیں جانتے کہ معاملے کی نزاکت کیا ہے۔ جب تک معاشرے میں ایسی ذہنیت والے مرد ہیں، عورتیں بالکل بھی محفوظ نہیں اگر صرف لباس کو بنیاد بنایا جائے تو کیا خواتین کھیلوں میں حصہ لینا چھوڑ دیں۔ کیا یہاں بھی لباس کو خواتین کے خلاف جرائم کی وجہ بنایا جائے گا۔ ہمیں مسائل حل کرنے کے بجائے عذر تلاش کرنے میں زیادہ دلچسپی رہتی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے اگر حکومت تحفظ کی فراہمی میں ناکام ہے تو پھر ایسے دلائل سے ایک بحث کا آغاز تو کیا جا سکتا ہے لیکن کوئی مثبت کام ممکن نہیں ہے ایسے دلائل سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہو گی نا مناسب لباس کے بارے میں ہر شخص کا نقطہ ٔ نظر اور دلائل سے اتفاق کریں یا اختلاف حقیقت میں معاشرے میں بڑھتی ہوئی درندگی کا بڑا سبب قانون کی حکمرانی نہ ہونا بھی ہے حالانکہ بلا امتیاز سب کے لئے ایک جیسے قوانین ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہوتے ہیں پاکستان جیسے ملک میں طاقتور کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا بااختیار،بارسوخ اور طاقتور کے سامنے قانون کو لقوہ ہو جاتاہے جبکہ کمزورپر قوانین کااطلاق اس طرح کا جاتناہے جیسے وہ دنیا کا سب سے بڑا مجرم ہو جب تک طاقتورکوقانون کا خوف نہ ہو معاشرے میں بہتری نہیں لائی جا سکتی وگرنہ یہی بحث ہوتی رہے گی کہ جنسی درندگی کاسبب نا مناسب لباس ہے۔
آج کے دور میں ہم نے معصوم بچوں پر بھاری کتابیں لادھ دی ہیں۔ انہیں کتابوں کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے۔والدین کے پاس بچوں کے لئے وقت کی کمی ہے۔گھر کا ہر فرد، مرد و خواتین کو فکر روزگار ہے۔ ضروریات زندگی بڑھ رہی ہیں۔ لائف سٹائل اور طرز زندگی بدل رہے ہیں۔اسی بدلتی زندگی میں تعلیم و تربیت پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا۔ بچے توجہ کا مرکز نہیں بن رہے۔ والدین کی ترجیحات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ علم زیادہ اور تربیت کم ہو رہی ہے۔ سکول بھی ریٹنگ پر توجہ دیتے ہیں۔ نصاب کی مکمل کتاب کے بجائے بچے کو چند مخصوص سوالات رٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پھر وہی سوالات امتحان میں آتے ہیں۔ اس لئے بچے تعلیم کے بجائے چند سوال رٹ کر 90فیصد سے زیادہ نمبرات لیتے ہیں۔ سکول اور استاتذہ کی بھی نیک نامی ہوتی ہے اور ان کی ریٹنگ بھی بڑھتی ہے مگر بچہ کورا کا کورا رہ جاتا ہے۔ کتابیں علم کا سمندر ہیں۔ مگر کتابی اورذہنی بوجھ سے بچے کی نشو و نما رک جاتی ہے۔ اس کے پٹھے متاثر ہوتے ہیں۔ ہڈیاں دب جاتی ہیں۔ قد نہیں بڑھتا۔ شریانوں پر دباؤ سے خون کی گردش کم ہو جاتی ہے۔ زیادہ بوجھ خون کی گردش روکنے کا باعث بنتا ہے۔ یہ جسمانی نقصان ہے۔ سب سے بڑا اور تباہ کن نقصان زہنی ہے۔ کلاس ورک اور ہوم ورک سمجھنے کے بجائے رٹنے کی پریشانی۔ یہ بچے کی نفسیات پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ وہ ہر وقت دباؤ اور ٹینشن کا شکار رہتا ہے۔اس کا نظام ہضم متاثر ہوتا ہے۔ رہی سہی کسر پاپڑاور غیر معیاری خوراک نکال دیتی ہے۔ بچے مصالحہ جات اور چٹ پٹی لذت میں گھر میں تیار غذا کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ اب تو کئی بچے اپنے ساتھ گھریلو ملازم لاتے ہیں۔ یا ان کے والدین ان کا کتابوں بھرا بستہ لے کر چلتے ہیں۔ جو بچہ بچپن سے دوسروں پر انحصار کا عادی ہویا اپنا بوجھ والدین پر لادھ کر چلنے پر مجبور ہو تو بڑا ہو کر اس کی کیفیت کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔اپنا کام خود کرنے کی یہ حوصلہ شکنی ہے۔ بعض سکولوں کا کتب خانوں ،یونیفارم ڈیلرزاور سٹیشنرز کے ساتھ جیسے ساز باز ہوتاہے یا یہ کمیشن لیتے ہیں۔یا تحائف کے لئے مک مکا ہوتا ہے۔ ایک کتاب کی بازار میں قیمت پچاس روپے ہے تو اس پر 20تا 60فی صد ڈسکاؤنٹ ملتا ہے۔ زیادہ خریداری پر اس سے بھی زیادہ دیا جاتا ہے۔ پبلشرز کا یہی طریقہ واردات ہے۔ وہ بھی من پسند قیمت لکھ دیتے ہیں۔ پھر جو وصول ہو ، غنیمت ہے۔ یہ ساز باز اور بڑا گٹھ جوڑ ہے۔ کرپشن ہے۔ جو والدین نرسری کلاس کے بچوں کی کتابیں پانچ پانچ ہزار میں خریدیں گے ۔ ان کو یونیفارم، لنچ، ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرنے میں مالی پریشانی ہو گی۔ فیسیں بھی بھاری ہیں۔ کتابیں، سٹیشنری کی آسمان کو چھوتی قیمتیں۔ یونیفارم کے منہ مانگے دام۔ یہ سب کاروبار ایک مافیا کی شکل اختیار کر رہا ہے۔بعض ادارے ڈونیشن کے نام پر لوٹ مار کر رہے ہیں۔ لیکن کوئی احتساب، پوچھنے والا نہیں۔ اس پر مضحکہ خیز بات یہ کہ سکول کسی مخصوص کتب خانے یا یونیفارم سٹور کے ساتھ معاہدہ کر کے والدین کو وہاں من مانی قیمت ادا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ والدین اپنی مرضی سے کتابیں، کاپیاں، وردی بھی خرید نہیں سکتے۔ سکول کتابوں اور کاپیوں پر اپنے سکول کی تشہیر کے لئے مونو گرام شائع کراتے ہیں۔ لیکن اس کی قیمت والدین سے بطور اضافی چارج وصول کی جاتی ہے۔ جس استاد کا رزلٹ سرکاری سکول میں صفر ہے وہی استاد اپنی اکیڈمی کھول کراچھا رزلٹ دیتا ہے۔ سرکاری سکول کا استاد اپنا بچہ پرائیویٹ سکول میں داخل کرتا ہے۔ تمام سرکاری ملازمین پر ان کے بچے سرکاری سکولوں میں داخل کرنے اور علاج سرکاری ہسپتالوں سے کرانے کی پابندی ہوتو سرکاری سکولوں ، ہسپتالوں کا معیار بلند ہو سکتا ہے۔ہمارے وزیر تعلیم، سیکریٹری تعلیم ، وزارت، سیکریٹریٹ کے افسران کے بچے سرکاری سکولوں میں نہیں پڑھیں گے تو ان کا معیار کون بلند کرے گا۔پالیسی سازون کے بچے نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں اور وہ سرکاری سکولوں کی پالیسی سازی میں لگائے گئے ہیں۔مستقبل کے ساتھ اس سے بڑا مذاق اور کیاہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے تعلیمی پالیسی پر خاص توجہ نہیں دی گئی۔عمران خان حکومت میں شفقت محمود سنجیدہ اور تعلیم یافتہ سمجھے جاتے تھے۔ وہ اس پر توجہ دے سکتے تھے ، مگر تا حال وہ میٹنگز اور تقاریر ہی کر رہے ہیں۔دینی تعلیم کو نصاب میں شامل کرنے سے بچوں کی اخلاقیات درست ہوں گی۔تعلیم وفاق کے پاس رہیتو ملک بھر میں قومی تعلیمی پالیسی تشکیل پاسکے گی۔ سکولوں کی رینکنگ کا نظام ہو۔انکریمنٹ ترقیابی کارکردگی سے مشروط ہوں، سرکاری تعلیمی اداروں میں تعینات اساتذہ اپنے بچے پرائیویٹ اداروں کے بجائے اپنے ادارے میں داخل کریں۔ بیوروکریٹس ، اعلیٰ عہدیدار اپنے بچے اپنے علاقے کے سرکاری ادارے میں داخل کریں۔ تببہتری متوقع ہے۔ تعلیمی نصاب ایک ہو،تعلیم کے ساتھ تربیت ہو، تو یکساں تعلیمی نصاب قومی سوچ پیدا کر سکے گا۔
تاریخ شاہد ہے کہ والدین کی جتنی خدمت ا ور اطاعت گزاری بچیاں کرتی ہیں بچے اتنی نہیں کر سکتے۔ مگر نا جانے کیوں ہمارے معاشرے میں بچیوں کو ایک بوجھ تصور کیا جاتا ہے اور ان کی پیدائش کو غم و غصے سے منسوب کیا جاتا ہے۔عورت زمانہ قدیم کے جاہلی دور سے لے کر آج کے ترقی یافتہ دور تک ہمیشہ مظلوم رہی ہے۔ کہیں اسے پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کیا جاتا ہے تو کہیں ستی کی رسم میں اسے شوہر کے ساتھ زندہ جلنا پڑتا ہے۔ کہیں اسے پاؤں کی جوتی سمجھ کر لونڈی بنا کر رکھا جاتا ہے تو کہیں عیش و عشرت کا سامان۔ اسلام کی آمد سے قبل کسی بھی معاشرے نے عورت کو عزت و احترام کا مقام نہیں دیا بلکہ شرق و غرب میں عورت مظلومیت کی چکی میں پستی رہی۔ اسلام کی آمد سے عورت کو جہاں تحفظ ملا، جائیداد میں حصہ ملاوہیں اسے معاشرے میں عزت و وقار کا مقام بھی ملا۔مگر ہمارے ہاں اکثر و بیشتر طبقوں میں عورت مظلوم تھی اور مظلوم ہی رہی۔ نہ جانے کیوں ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کی پیدائش پر افسوس کیا جاتا ہے حالانکہ ہمارے نبی کریم ؐ نے بچیوں کی پیدائش پر جنت کی بشارت دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیٹیاں اللہ کا خاص انعام ہوتی ہیں جن کے دم سے گھر میں رونق ہوتی ہے۔ والدین بچیوں کی تربیت میں اگر درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھیں تو یہ خوبصورت ہستیاں احساس محرومی سے بے نیاز ہو کر اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ کار پر کاربند ہو کر دنیا و آخرت میں اعلیٰ مقام حاصل کر سکتی ہیں اور ان کی اعلیٰ کرداری یقینی طور پر جہاں والدین کے لیے سرخروئی کا سبب بن سکتی ہے وہیں بچیوں کی پیدائش پر افسردہ ہونے والے والدین کے لیے ذہنی اطمینان کا ذریعہ بھی۔ بچیوں کی پرورش کرتے ہوئے شروع دن سے ان کی عادات و اطوار پر فوکس کیا جانا ضروری ہے۔ بچپن سے ہی بچیوں کو مکمل لباس پہننے، گھر میں رہنے اور گھر کے معمولات میں والدین کا ہاتھ بٹانے کی تربیت دی جائے۔ ان کے لیے کھیلنے کودنے کے لیے گھر کی چاردیواری کے اندر انتظام موجود ہو۔ بچیاں صرف اپنی ہم عمر بچیوں کے ساتھ کھیلیں کودیں اور بچپن سے ہی انہیں تربیت دی جائے کہ لڑکوں کے ساتھ ان کا ہاتھ ملانا، ساتھ مل کر بیٹھنا اور کھیلنا کودنا درست نہیں۔ بچیوں کی تربیت کرتے ہوئے ماؤں کو خاص طور پر انہیں مستقبل کی اچھی بیویاں اور مائیں بنانے کا ہدف ذہن میں رکھنا چاہیے۔ بچیوں کی تعلیم بہر حال بچوں کی تعلیم کی طرح ہی اہم ہے۔ اس لیے تو نپولین نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا۔ بچیوں کو تعلیم لازمی دلوائی جائے البتہ ادارے کا انتخاب کرتے ہوئے ضرور دیکھا جائے کہ جہاں ان کی تربیت ایک مسلم عورت کے طور پر ہو سکے۔ مائیں بچیوں کو ازدواجی زندگی کامیاب بنا سکنے کے لیے انہیں کھانا پکانے، گھر کو سنبھالنے، اچھی بیوی اور ماں بننے غرض ہر طرح کی صورت حال میں خود کو ڈھالنے کے حوالے سے تربیت دیں۔ چونکہ ہر لڑکی شادی کے بعد کسی دوسرے گھر میں ہمیشہ کے لیے چلی جاتی ہے اس لیے ان کی تربیت کرتے ہوئے انہیں سسرال کے ماحول کو اپنانے، ان جیسا بن جانے، اس خاندان کی روایات، طریقہ کار اور پسند نا پسند کے مطابق خود کو ڈھالنے اورسسرال کی خوشی اور غم کو اپنا بنا لینے کی تربیت شامل ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ لڑکی دونوں خاندانوں کے مضبوط تعلقات کا سبب بن سکے اور اس کی وجہ سے رنجش اور اختلاف پیدا نہ ہو۔ عزت و عاطفت کی حفاظت کرنا ہرلڑکی کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ بچیوں کو اپنی آواز دھیمی رکھنے، ستر ڈھانپنے، سلیقے سے چلنے پھرنے اور ایک باعزت اور باکردار خاتون بننے کی تربیت دینا والدین بالخصوص ماؤں کی ذمہ داری ہے۔ بچیوں کو محرم اور نا محرم کا تصور دیں اور محرموں سے مناسب فاصلے پر رہنے کی تربیت بھی کریں۔ بچیوں کو اعتماد دیں کہ کوئی اجنبی شخص ان سے کوئی بھی بات کرے وہ گھر آکر ضرور بتائیں۔ سکول میں، محلے میں یا کسی بھی جگہ پر کسی انہونی بات کو ضرور بتائیں۔ گھر میں ٹی وی،موبائل اور لیپ ٹاپ وغیرہ پر دیکھے جانے والے پروگرامات کی بھی نگرانی کریں۔ بچیوں کو گھر سنبھالنے، شوہر کی اطاعت گزار بننے، ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے اور شاکر رہنے کی تربیت دی جائے۔ اس کے علاوہ کن کاموں کے لیے لڑکیاں گھر سے نکل سکتی ہیں، کیا کام کر سکتی ہیں، لوگوں سے میل جول کس حد تک رکھ سکتی ہیں اس حوالے سے مناسب رہنمائی والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔ بچیوں کو بالخصوص اسلامی تہذیب سے جوڑنا اور اپنے مشاہیر کے طرز عمل کو اپنانا ضروری ہے۔ ہر مسلم بچی کی آئیڈیل امہات المومنین و صحابیات ہونی چاہییں تا کہ یورپ کی نام نہاد کھوکھلی ترقی کی بنا پر تیار کی گئی کوئی عورت ان کی رول ماڈل نہ بن سکے۔ اس سلسلے میں جہاں بچیوں کو ترغیبات کی نشاندہی کرنا ضروری ہے وہیں انہیں مغربی اور سیکولر معاشرے کے اصل چہرے سے روشناس کرنا بھی ضروری ہے کہ جس میں عورت کو ایک اشتہار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ہر پروڈکٹ کو عورت کی تصویر کے ساتھ متعارف کروایا جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں عورت کو صرف اور صرف سامان عیاشی بنانے کی سعی کی جارہی ہے۔ دونوں تہذیبوں کے تقابلی جائزہ سے ہی یہ ممکن ہے کہ ہماری بچیاں تصویر کے دونوں رُخ دیکھ کر اپنے لیے بہتر راہیں متعین کر سکیں۔
ہم اس لیے بھی خوش قسمت ہیں، ہم اس لیے بھی رعایت میں ہیں، کہ ہم اس عظیم ہستی کے امتی ہیں کہ جو کل عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ ہم اس لیے بھی بے شمارمصائب سے محفوظ ہیں کہ اللہ کے محبوبﷺ نے رب کے حضور ہمارے لیے اتنی رحمتیں طلب کیں ہیں کہ وہ رحمتیں ہمیں گھیرے ہوئے ہیں۔ وہ رحمت جو اللہ کے غضب پر غالب ہے۔ جو ہمیں راستہ دکھاتی ہے اورہدایت سے سرفراز کرتی ہے۔ ہمیں بھٹکنے نہیں دیتی……ہم بھٹک جائیں تو ہمیں توبہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ وہی رحمت جو رب کی صفت ہے، اور اس صفت کا عملی مظہر ”حضرت محمدﷺ“ کی ذات اقدس ہے۔ ٭ کیا وہ دعائیں جو ہمارے نبیﷺ نے امت کے لیے مانگیں، ہم ان سے فیضیاب نہیں ہوئے؟ ٭ کیا جو رحمتیں رحمت العالمینﷺ نے اللہ سے طلب کیں…… انہوں نے ہمیں بے شمار مصائب سے محفوظ نہیں رکھا؟ دنیا میں ایسی کسی ہستی کی کوئی مثال نہیں ملتی جس نے بلا تفریق سب سے محبت کی ہو، اور ایسی محبت کی ہو کہ رب کے حضور گڑگڑا کر امت کے لیے بخشش اور ہدایت کی دعائیں مانگیں ہوں۔ وہ امت جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھی۔ وہ امت جس نے ہزاروں سال بعد آنا تھا۔ وہ امت بھی جو قیامت کے قریب پیدا ہو گی۔ وہ امت بھی جو اللہ کی ہی نافرمان اور گناہوں میں مبتلا ہو نے والی تھی۔مانگنے والے نے بلاتفریق رحمتیں مانگیں۔رحمت العالمینﷺ کی شان دیکھیں کہ انہوں نے سب سے زیادہ ''امت'' کی فکر کی۔جنہیں آسمانوں پر بلایا گیا، انہوں نے زمین پربھیجے جانے والوں کی ایسی فکر کی کہ دوزخ کا حال دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے۔ہمارے گناہوں اور اعمال کی فکر کرنے والی اس ہستی کی امت ہونا ہمارے لیے اعزاز ہے۔ وہ عظیم استاد محترم کہ اپنی امت کی تربیت خاص کی اور کہا، ”تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں“۔(الحدیثﷺ)۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے ہمیں زندگی کے ایک ایک پہلو کی تربیت دی۔ علم حاصل کیا جائے، معاملات کو درست کیا جائے، ایک دوسرے کے ساتھ اخلاق سے رہا جائے، آواز میں نرمی پیدا کی جائے، مسکراہٹ کے تحفے دیے جائیں، ہمسایوں کا خیال رکھا جائے، یتیم کی سر پرستی کی جائے، والدین سے حسن سلوک رکھا جائے، بیمارکو ہاتھ کا چھالا بنایا جائے، بیٹی کو سر آنکھوں پر بٹھایا جائے، علم کو فرض کیا، بے ایمانی سے روکا، جھوٹ سے باز کیا……کون سا ایسا پہلو ہے جسے نبیﷺ نے اپنی زندگی میں عملی طور پر نہ اپنایا ہو۔ نصیحت کرنے سے پہلے ”خود“ کر کے نہ دکھایا ہو۔ نرم دلی اور انسانی دوستی کی ایسی مثال کون قائم کرتا ہے کہ جو عورت کوڑا پھینکتی ہے، اور برا بھلا کہتی ہے، اسی کی تیمار داری کرتے ہیں۔دل میں ایسی عظیم الشان کشادگی ہے کہ پتھر مارنے والوں کو معاف کر دیا۔ بلاتفریق سب کے لیے معافی کا اعلان کر دیا۔دل میں کوئی شکوہ، شکایت نہ رکھا۔جو خود عظمت کی بلندیوں پر ہیں، اور کھڑے ہو کر دوسروں کو احترام دیتے ہیں۔ خود پیچھے چلتے ہیں،اور اصحابہ کو آگے چلنے کے لیے کہتے ہیں۔ جس دیوانی سی عورت کی باتیں کوئی نہیں سنتا، رک کر اس کی باتیں پوری توجہ سے سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”اگر میں بھی اسے نہ سنوں تو کون سنے گا؟“ ہمارے دل پتھر تھے، ان پتھر دلوں کو رحم کا درس رحمت العالمینﷺ نے دیا کہ، ”اللہ اس پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔“(حدیث) ”قسم ہے اس جان کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے“(حدیث) ہم جاہل تھے، ہمیں علم سے رب کی پہچان کروائی۔ ہمیں علم اور عمل کی طرف راغب کیا۔ ہم بھٹکے ہوئے تھے، ہمیں اخلاق، اطوار اور معاملات کی تربیت دی۔ہم کیا جانتے تھے کہ ہمارے مال کیا ہیں؟ ہمارے مال بھی ہمارے نیک اعمال ہیں۔ یہ مال ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بھی ہے کہ عزیز و اقارب کو دیں، غرباء کی امداد کریں اور اللہ کی محبت ”مال خرچ“ کر کے پا لیں۔اس سے پہلے تو قومیں مال و دولت کو جمع کرتی آئی تھیں۔ کون ہے جو بھوکا رہا اور دوسروں کو کھلا دیا۔ ہم کیا جانتے تھے کہ زندگی میں سکون کیسے آئے گا، سکون اللہ کی یاد سے آئے گا، انسانیت کی خدمت سے آئے گا۔سکون اس نیکی سے آئے گا جسے صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔اس پتھر کو ہٹا دینے سے بھی آئے گا جو کسی کی راہ کی رکاوٹ ہو۔ ہم کیا جانتے تھے کہ ہمارا لباس کیا ہو گا، ہمارا مزاج کیا ہو گا۔ ہمار ا مزاج”رحم“ہو گا اور ہمارا لباس”سادہ“ہو گا۔ ہمیں تکبر سے بچنا ہے، ہمیں اکڑ کر نہیں چلنا! ہمیں انکساری اپنانے والوں میں سے ہونا ہے۔ہم جانتے ہی کیا تھے کہ ہمیں کیا کرناہے، کیسے کرنا ہے، کب کرناہے، کس کے ساتھ کرنا ہے۔ ہم انسان تو پیدا ہو گئے تھے لیکن جانوروں سے بدتر ہوتے……ہم دنیا میں بھٹکتے پھرتے، جاہل اور بے ایمان رہتے، ایک دوسرے کو نوچنے کھسوٹتے، حق کھاتے، بے ایمانی کرتے، چوری بازاری میں مصروف رہتے اور کہیں ”فلاح“ نہ پاتے ……لیکن …… ہم یہ نہیں ہوئے……کیوں کہ ہم ”رحمت العالمینﷺ“ کے امتی ہوئے…… الحمد للہ!
Great Sarcastic are the real hypocrites ━━━━━━━━━━━━━━━━━━ Sarcasm is a sickness, it is actually hostility disguised as humor...The origin of the word "Sarcasm" derives from the Greek word “sarkazein” which literally means “to tear or strip the flesh off.” Hence, it’s no wonder that sarcasm is often preceded by the word “cutting” and that it hurts... Sarcasm is a narrow form of bullying and most bullies are angry, insecure and cowards... Our life is based upon this universal law of cause & effect, so what we're doing with others, it will come to us later in same form or other form...So in this flooded world of memes & trolls, don't appreciate sarcasm because it's just thinly veiled hostility and unacceptable bullying...we are constantly creating Karma from our own actions, thoughts, words, from our own attitudes, expectations, & lifestyles...Allah says in Quran فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّـهُ مِنْهُمْ Those who make fun of others - So Allah will make fun of them in return. (Quran 9:79) A sarcastic person has a superiority complex that can be cured only by the honesty of humility, so, tone down the sarcasm and work on clever wit instead, which is usually devoid of hostility and thus more appreciated by those whom you’re communicating to. In essence, sarcasm is easy (as is most anger, criticism and meanness) while true, harmless wit takes talent... so Hunt the Talent lies within... Remember: Think well, act well, feel well and be well...
 
1 Trust in Allah, but tie the camel first 2 Practical examples 3 Playing God 4 The case of Malaysia Summary: This article is about the sacredness of human life and how the COVID-19 pandemic has brought it to the limelight. Indeed, it is human nature that we come to appreciate something only when we lose – or start losing – it. That is one of a few positives that can be derived from this whole predicament (trial). But the question is how to extend this sentiment into the rest of life’s aspects, and how to sustain it after the pandemic. While COVID-19 is wreaking havoc across the globe, one thing is becoming increasingly clear. People are getting ever more considerate and caring. Global compassion and cooperation levels are reaching an all-time high. If the situation can be sustained in the future, when better times arrive again, this pandemic will not be regarded as all doom and gloom. People are beginning to show the extent and power of their inborn capacities. They are becoming genuinely human. Their coming-of-age made them value their lives and their being humans as greatest assets. It made them see and appreciate the most important things in life. Some people became extra religious, others extra “themselves.” Regardless, they all became better. Religion is as much human and natural, as being human and natural is religious. The two spectrum have far more in common than that which divides them. Thus, if the COVID-19 scourge is religion, culture, and race-blind, so should be humankind’s response to it. This is a transnational battle for humankind and the earth. Any strategy short of this outlook will mean that COVID-19 will eventually win and man will lose. At best, the battle is set to be long and hard, straining humankind’s resources to the breaking point. The most conspicuous thing the world seems to be speaking with one voice about is the sacredness of human life. Human well-being and safety are top the agenda of each and every country. Everything else takes a back seat. This is yet another issue where both spirituality and temporality unite, and where religions and secular systems get together and cooperate. In principle, they are unanimous that every person enjoys the inherent right to life, which must be protected by law. Violating that right results in the most indictable offences. That is why in Islam, by way of illustration, killing an innocent person is comparable to killing all mankind, and saving a person is comparable to saving all mankind (al-Ma’idah, 32). It is noteworthy that the word used here is nafs (human soul). It means that the matter in this context is purely humanist. It has nothing to do with religious affiliations, or with people being Muslims or something else. Trust in Allah, but tie the camel first Of course it is only Almighty God who gives and takes life, but man in his capacity as God’s vicegerent on earth is entrusted to enjoy as well as preserve that heavenly gift. Man’s entire life striving is to revolve around that thrust. Human culture and civilization is to be but human well-being and human life-centric. Hence, preservation of life is one of the fundamental objectives of Islam and its Shari’ah (Law). It is a goal of everything that carries the adjective “Islamic.” It is true that God as the Creator and Lord of the universe is in charge of human and earth’s destinies. However, Muslims are bidden to resourcefully oscillate “between one decree of God and another,” as well as to “trust in Allah, but tie the camel first.” The Qur’an sums up the matter by saying: “Then when you have taken a decision, put your trust in Allah” (Ali ‘Imran, 159). There is a causal relationship between events and things. The vicegerent on earth must respect it most of all. In his quest for happiness in both worlds, man is at once a free and fated agent. People must do whatever is necessary to optimize the relationship between causes and effects, and between actions and reactions. There is nothing in this (in righteous epistemology, science and technology) that is unreligious, or that challenges the authority of God. On the contrary, being a passivist or an extreme fatalist, is unreligious. It defies both the religious and common sense. To stand up to the pandemic in the name, and with the help, of God, mobilizing the powers of Heaven and earth, and such as are under the jurisdiction of man on earth and those of the spiritual forces in Heaven, is a praiseworthy attitude. In opposition, to do nothing – or just little, which will be far below the intrinsic capacities of man – and to keep scratching the head about whether the pandemic is a mere curse, punishment, or trial, and that only prayers, plus a supernatural intervention, will help, is a blameworthy attitude. The COVID-19 pandemic is primarily an earthly problem. It unfolds right on man’s home turf. Man, therefore, must take charge and face it most valiantly, displaying in the process the subtle interplay between his freedom and his predestination, between his dependence and his independence, between his strengths and his weaknesses, and between his built-in mortality and looked-for eternity in Heaven. Practical examples That explains, as a small digression, why prophet Yusuf (Joseph) accepted to cooperate with a non-believing king of Egypt (many claim, including the Bible, that he was a Pharaoh, but the Qur’an as a teacher and a reference that corrects history and other references, is explicit that he wasn’t). Yusuf did so purely on the grounds that the welfare and sheer existence of people – in Egypt and beyond – were on the line. He, as a prophet of God, was expected to do something about it more than anybody else. The condition transcended the levels of religiosity and nationality, so Yusuf acted accordingly. Preaching pure religion and religious values was reserved for different circumstances, like with the two young men who happened to go to prison at the same time as Yusuf. According to some commentators of the Qur’an, Yusuf’s conversations with the king are devoid of a conspicuous religious sentiment, because doing so would have been out-of-place and yet, perhaps, misunderstood by the king under the given circumstances. As an example, Yusuf did not say distinctly “if God wills” when talking about the future events, which under normal conditions would be strange for a believer. Why to get over involved in ineffective pursuits – and so, get hindered - when improving people’s well-being and saving their lives proved most critical? About the former, nothing much could have been done, whereas the latter for the most part depended on Yusuf’s abilities and commitment. It is worthwhile, furthermore, to compare Yusuf’s spiritually loaded conversations with his family members, who were his coreligionists, with his worldly and nonspiritual, as it were, conversations at the royal court where he functioned as the treasurer and inspector of Egypt’s storage chambers. Concerning the latter, Yusuf talked only in ways that appealed to the people’s innate principles and values. Yusuf let his actions and integrity do the talking. They were the language everybody understood, and were the values everybody appreciated. They denoted universal standards, corresponding to the universal nature of the problem he helped to solve. Similarly, when Prophet Muhammad (pbuh) migrated from Makkah to Madinah, he established the first and exemplary Islamic state. At the outset, it was a multi-ethnic and multi-religious society par excellence. The fundamental human rights of the members of each religious and ethnic group were enshrined in the Constitution of Madinah as the first written statute in history. The first sentence in the Constitution emphasized that all groups in Madinah – Muslims and non-Muslims - constituted one nation: Ummah (community). Which means that equality and brotherhood in humanity are as important as those that run along the religious lines. They are to be pursued simultaneously and together. If attempted separately, or at the expense of each other, neither will be fully realized. They will persistently hold each other back. The notions of universalism and inclusiveness, when it comes to honoring people’s basic rights, have been demonstrated time and again throughout the history of Islamic civilization, especially following Muslims’ victorious entries into the leading international religious and cultural centers, such as Jerusalem, Damascus, and Constantinople (Istanbul). It follows that people should utilize the COVID-19 pandemic to strengthen their perceptions and appreciation of human life. This should be done as part of an emerging total ethos, encompassing and deeply influencing the spheres of philosophy (theory), education, legislation and, most importantly, implementation. The ethos should be adopted and promoted due to principle rather than expediency. A hint at how important this new culture will be and that realizing it is not a far fetched prospect, is presented by the fact that the pandemic has brought to an end all large scale human hostilities, and have toned down all serious political quarrels. All of a sudden, people realized that those were secondary issues, and that there were more important problems to worry about. Towards this end are U.N. Secretary-General Antonio Guterres’ continuous calls for an immediate cease-fire in conflicts around the world, also for an end to trade wars and economic sanctions, so that people could concentrate on tackling the COVID-19 pandemic. Playing God As a consequence, how paradoxical it is that before the pandemic, people in many countries were ruthlessly oppressing and taking the lives of each other, while the rest of the world kept watching and even siding with and supporting certain groups (e.g. in Syria, Yemen, Palestine, Libya, Iraq, Afghanistan, Myanmar, Kashmir, India, China, etc.). Then, after the eruption of the pandemic, the whole world started to preach universal peace, values and safety. Incessant haranguing that saving human lives must take priority over everything else, could be heard and seen everywhere. The questions that impose themselves are: What to do after the COVID-19 pandemic? Will people return to their old ways, becoming hypocrites and trampling over their religions and humanness? Will personal and political interests prevail over the collective and broader ones? Or will people continue on their journeys of affirming the humanness of man and the inviolability of human life and dignity? In any case, if people revert to their old bad habits – which is most likely - that will spell a modern and perhaps most depraved version of “playing God.” It will signify a pretentious act of “giving life and causing death.” According to it, people will frantically endeavor to save lives during pandemics, crises, and whenever they so wanted and so was in their interests (“giving life.”) They will conceitedly believe that as “super-humans” they can easily cope with everything worldly and otherworldly forces might throw at them. For many, seeking human immortality will also be in the offing. On the other hand, such people will likewise take lives mercilessly through wars, military annexations, oppression, tyranny, economic sanctions, etc., and whenever they so wanted and so was in their interests (“causing death.”) This vividly evokes the case of king Namrud who during the time of prophet Ibrahim claimed to be a god himself. On account of Almighty God giving him power and kingship, testing him thereby, Namrud, having failed the test, repudiated Ibrahim and arrogantly argued with him. “When Ibrahim said: “My Lord is the one who gives life and causes death,” he said, “I give life and cause death” (al-Baqarah, 258). Namrud is said to have “substantiated” his claim by bringing forth some of his prisoners, whose lives were “at his mercy.” He then killed some of them (“causing death”) and set others free (“giving life”). People’s fight for preserving human lives must intensify and continue. After the pandemic, it needs to take on a different dimension. All life sectors, in particular where lives are often needlessly and carelessly lost, should attract as much focus as the pandemic does now. This is the case because life is the same during and after the pandemic. Its preciousness and sacredness are no less important after the pandemic as they are during it. Undeniably, there is nothing in economic, political, and social terms that is worth risking a single human life.
1 Man is not running the show 2 Shaken but not derailed 3 Yet another sign 4 The power of prayer 5 It’s the little things that matter most 6 The peril of spiritual and moral pandemics The following are six important lessons that we Muslims can learn from the raging COVID-19 pandemic. The lessons are enduring and could be shared with non-Muslims as well. Man is not running the show Since the dawn of Protagoras’ (d. 420 BC) philosophy of relativism, according to which “man is the measure of all things,” and since the age of Renaissance humanism, according to which “mankind is at the center of the universe,” “enlightened” man always pretended to be in control of his own destiny. He, rather than God, was the source of all value and legitimacy. Human reason and talents, rather than any metaphysical entity or source, were placed on a pedestal. On account of the Scientific Revolution, which took place towards the end of the Renaissance period, giving birth to the intellectual and social movement in the 18th century known as the “Enlightenment,” and serving as a precursor to the subsequent modern and post-modern eons, this anthropocentric view was propelled to unprecedented heights. Man started at once to believe and behave as though he was in control of the whole earth. The whole universe became the target of his exploration and conquest ambitions. The modern man believed that he had the whole world at his feet, both literally and metaphorically. In the process, the idea of God was relegated to the forgotten “absentee landlord” who lives “upstairs” from the world which humans inhabit. There was more and more antagonism between the modern man and Heaven. The total separation became inevitable. Resulting from the separation was the Death of God theology championed by a myriad of philosophers and theologians. The doctrine denoted the rise of secularity and total abandonment of traditional religious beliefs and practices. Perhaps the most emblematic of the trend was Friedrich Nietzsche’s (d. 1900) assertion that “God is dead.” Equally powerful was Stephen Hawking’s (d. 2018) belief that “there is no God; no one directs our fate.” Thus, the COVID-19 plague is a slap in the face for the modern man and his irreligious civilizational headway. It became obvious that no amount of scientific knowledge and technological advancement can avail man of virtually anything when a Big One strikes. It also became clear that man’s scientific and technological progress - however massive it may appear to us on account of our prejudiced and flawed benchmarks – is extremely small and insignificant when juxtaposed with how infinite and complex the existential reality is. Man’s ignorance of the world will always greatly outweigh his knowledge of it. Thus, no sooner does man confront an aspect of the endless unknown, than he comes forth as a helpless and extremely vulnerable being. He wanders alone in the dark, dealing with issues on the basis of trial and error, which brings but little yield. The way people conceive and react to COVID-19 is an unmistaken sign of humankind’s smallness and vulnerability. What they normally do, as much individually as institutionally, is a combination of arrogance and ignorance, masked with incredible occasional honesty and determination. For illustrative purposes, out of 8.7 million earth’s species, 86 percent are still unknown; that is, they are yet to be accurately described and understood. Moreover, 95 percent of the world’s oceans – which take up about 71 percent of earth’s space - and 99 percent of the ocean floor are unexplored. This induced some to remark that we know more about the surface of Mars than we do about the ocean floor. This is the situation while extinction dramatically accelerates, and while man’s well-being, yet his survival as a species, is increasingly threatened. At any rate, man is only a creation and a servant (just as the virus in question is). Man has the Creator and Master, and no matter what, there cannot be an exchange of titles. Only with his Creator and Master on-board, can man realize his remarkable potentials and fulfill his destiny. Only with God as the Guide and the One Who Directs, or Manages, (Mudabbir), furthermore, can man truly become somebody and “big,” leaving a worthy legacy for posterity. Man is not running the show on earth. It is Almighty God, the Creator of life and us, who does. Still, there are so many leading roles to play, whereby man can emphatically express himself and run after his grand goals. In doing so man is not to pit himself against God and Heaven. Rather, he is to set himself against any negativity that may hinder him from achieving his pragmatic and sensible objectives. God and Heaven are man’s greatest allies on the journey. COVID-19 should generate in the modern man a great deal of soul-searching, enabling him to think and act with both feet on the ground. His perpetual scientific and cultural haughtiness as well as waywardness are counterproductive, leading him in the long-term basically nowhere. The Qur’an reminds that man has been given very little knowledge (al-Isra’, 85); that man was created weak (al-Nisa’, 28); that man is in need of God Who, in turn, is the One free of need and all wants (Fatir, 15); that knowing even his very soul, which is a heavenly component inside man, and which makes him the “person” and “intelligent being,” is beyond man and his limited capabilities (al-Isra’, 85). Shaken but not derailed COVID-19 is very subtle and dangerous. People must do whatever is in their power to reduce their risk of infection. They also must do their part in helping prevent the spread of the virus. Whereas the responsible parties should incessantly look for a cure, sparing no expense and every other legitimate means in doing so. It is right here and right now that people need to show how responsible, compassionate, and cooperative they are. This is not only about individuals, but also entire communities and the whole world. The stakes are high, and the well-being of humankind is on the line. It is in these circumstances that selfishness, greed and irresponsibility can hurt most, and that accountability, care, and team work can be rewarding most. No risk, or threat, is to be taken lightly by any party. However, we must bear in mind that the virus is nothing but God’s creation, and the pandemic is unfolding only because God so wills. There is a purpose, yet profound wisdom, behind the occurrence, even if we failed to comprehend them. There is always a blessing in disguise. But to come to the root of the difficulty, people need to cooperate with God – apart from cooperating among themselves - more intensely and more closely. This is positively so because Almighty God does nothing that is purposeless, senseless, and is intrinsically bad for people. His being Merciful, Kind, Benevolent, Loving, and Just is most pervasive and most compelling. According to the Islamic worldview, all that God does is meant to be beneficial for man and his earthly vicegerency mission, one way or another. We also have to remember only what God wants will eventually befall us. If He decreed that COVID-19 will affect a person, no amount of awareness, care and preventive measures could frustrate His plan. Similarly, if God decreed that a person will not be affected by COVID-19, absolutely nothing could alter His decision. This by no means tends to promote the idea of passive fatalism, just as it does not intend to land any support to the notions of complete freedom and indeterminism either. Human life is a delicately struck balance between the two opposing domains. Human life is the result of God’s divine will, plan, and ultimate care. In it, there is no room whatsoever for coincidences, absurdities, and injustice. COVID-19 is another (just) act of God, which man should make the most of to deepen his knowledge of the self, others, the world, and ultimately, God. It could likewise be a test and a punishment, about which people are not to pretend to be judges. So superficial is man’s acquaintance with the secrets of the higher order of meaning and experience that venturing into those things will inevitably lead to the baseless acts of speculating, hyperbolizing and conspiracizing, thus adding to the widespread confusion and panic. God says in the Qur’an: “Say: Nothing will afflict us save what Allah has ordained for us; He is our Patron; and on Allah let the believers rely” (al-Tawbah, 51). The Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) said: “Be mindful of Allah and he will protect you. Be mindful of Allah and you will find him before you. If you ask, ask from Allah. If you seek help, seek help from Allah. Know that if the nations gathered together to benefit you, they will not benefit you unless Allah has decreed it for you. And if the nations gathered together to harm you, they will not harm you unless Allah has decreed it for you. The pens have been lifted and the pages have dried” (Jami’ al-Tirmidhi). Yet another sign Everything in the heavens and on the earth – permanent or otherwise, animate and inanimate - is a sign, attesting to the absolute truth. So is COVID-19. The Qur’an is a revealed book of signs (ayat). The universe, too, with all its dimensions and manifestations, is a created “book” of signs (ayat). If the former is all about signs, because it is God’s Word (logos), the latter is all about signs as well, because it is the result of God’s Word (logos) “kun” (“Be!”), as a symbol of God’s divine creative power. Nothing happens without God’s will and command, symbolizing His greatness, presence, authority, omniscience, compassion, and providence. All that happens also casts light on the status and character of man and his honorable mission. COVID-19 is yet another chapter in the ontological book of signs. Through it, people should perceive God’s Will and Power at work, re-positioning their own wills and undertakings accordingly. While dealing with the pandemic wisely and decisively, they should use it to enrich themselves and enhance their relationships with the Creator and His creation. COVID-19 as a sign – or a series of signs - should be used for understanding better the other equally, or maybe even more, remarkable signs that came to pass in history. By analogy to the origins, spread and impact of COVID-19, more light can be shed on earlier historical signs that created similar effects and generated parallel behavioral patterns. All that is set to help accept and come to terms with some yet bigger approaching signs. Facts about those signs are deposited on the pages of the revealed knowledge and pertain to the end of the world and the beginning of the Hereafter. They tell us that all signs are innately miraculous events. They defy both logic and the laws of physics. For that reason man is powerless to handle them effectively alone. His modi operandi do not – and cannot - transcend the levels of rationality and physics. For example, profoundly comprehending COVID-19 may help us understand the work of the nine signs Prophet Musa (Moses) was sent with to face the challenge of Pharaoh and his elites; the failed invasion of Makkah by Abraha, the Abyssinian and Christian ruler of Yemen; God’s bringing forth for nonbelievers, as a major sign of the Day of Judgment, “a creature (beast) from the earth speaking to them, (saying) that the people were, of Our verses (signs, ayat), not certain (in faith)” (al-Naml, 82); that God will destroy numerous and mighty Gog and Magog (Ya’juj and Ma’juj), as another major sign of the Day of Judgment, by attacking their necks with worms that will fill their ears and noses, thus killing them (Sunan Ibn Majah). The power of prayer Dealing with COVID-19 is risky. It is highly contagious and deadly. Nonetheless, the pandemic should be seen both as a threat and opportunity. People need to face it head-on and uncompromisingly, and should look forward to emerging stronger and more resilient from it, for “what doesn’t kill you, makes you stronger.” All these outlooks and measures have been encapsulated in some hadiths (traditions) of the Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) that forbid Muslims to enter a land in which a plague has occurred, and also forbid them to leave a land in which a plague has occurred (Sahih al-Bukhari). The Prophet said: “The plague is a calamity (or a punishment) that was sent upon the Children of Israel, or upon those who came before you. If you hear of it in some land, do not go there, and if it breaks out in a land where you are, do not leave, fleeing from it” (Sahih al-Bukhari). The Prophet also said: “There is no harm nor reciprocating harm.” (Sunan Ibn Majah) He likewise said that the best of people are those who are most beneficial to people, and by analogy, the worst of people are those who are most harmful and most detrimental to people (Mu’jam al-Tabarani). Since COVID-19 exists and does what it does only due to the permission of God, these difficult and testing times should be used for enhancing our relationship with God. People should deal directly with the source. They should seek protection from, and eventual elimination of the virus, only from God. They will have to do their part, with-in and with-out themselves, but that, too, is to be seen merely as part of seeking and activating God’s will in our favor. The Qur’an reveals that “Allah will not change the condition of a people until they change what is in themselves (their own condition). And when Allah intends for a people ill, there is no repelling it. And there is not for them besides Him any patron (protector)” (al-Ra’d, 11). The Prophet taught us several prayers and supplications to recite (and actualize) for protection against harms and evils, including diseases and plagues. Some of them are as follows (www.islamqa.info): “In the name of Allah with Whose name nothing can harm on earth or in heaven, and He is the All-Hearing, All-Knowing” (Sunan Abi Dawud). “I seek refuge in the perfect words of Allah from the evil of that which He has created” (Sahih Muslim). “O Allah, I ask You for well-being in this world and in the Hereafter. O Allah, I ask You for pardon and well-being in my faith, my worldly affairs, my family and my wealth. O Allah, conceal my faults and protect me from that which causes me to worry. O Allah, protect me from before me and from behind me, from my right and from my left, and from above me, and I seek refuge in Your greatness lest I be destroyed from beneath me.” (Sunan Abi Dawud) “O Allah, I seek refuge with You from the withdrawing of Your blessing, and the loss of the well-being that You granted me, and the sudden onset of Your wrath, and anything that may lead to Your displeasure.” (Sahih Muslim) However, prayers and supplications should not be just reactive and mechanical chants, without knowing what is being said and without feeling that something extraordinary is taking place. Instead, prayers and supplications are to be seen as forms of reciprocal communication with the Creator and Master of the universe, whereby we recognize when we talk that we are listened to, and when we are talked to that we listen. Through their prayers, people can demonstrate how pious, dedicated, and enlightened they are. At the same time, they can show how insincere, selfish, and imprudent they are. Indeed, people and the state of their total worship are what and how effective their prayers are. Prayers must be free of self-centerdness, covetousness, superstitions, skepticism, and hesitation. Prayers connote a form of worship. They are a way of life. They are further described by the Prophet as a weapon for believers. But a weapon is only as good as a person using it. If a weapon is in a good condition and effective, if a person using it is skilled and brave, and if there is nothing to impede such a person from using the weapon, then the weapon is perfect and can destroy its target. But if all or some of the three mentioned components are missing, then the effect of the weapon will be correspondingly impinged on. Prayers, like weapons, can be used and misused. They are answered contingent upon a person’s sincerity, piety, and strength of character. It’s the little things that matter most COVID-19, apart from making us feel afraid and unsure, is also making us more compassionate and more understanding. It is making us more pragmatic and more open-minded. We are made to change our perspective and see many things differently. For many people, as a result, life may never be the same again. One of the things learned from the predicament is that in times of difficulty it is the little things that matter most. In their lives, people are usually preoccupied with big dreams, issues, and challenges. Their everyday routines and the people they interact with most are regarded exactly as that: average and inconsequential procedures as well as acquaintances. However, in times of need it is such routines and persons that prove most important and most decisive. For example, during the COVID-19 pandemic, we are advised to take care of personal hygiene, to keep the places where we live, work, worship and play, clean, and to mind our manners when alone and with others. In other words, we are to be completely responsible and live responsibly. These behavioral principles can be dubbed “Coronaethics.” In doing so, the most important persons are our family members, our neighbors, our friends and our colleagues. But all of these people under normal circumstances are taken for granted and often even underappreciated. People suddenly realize that huge military, sophisticated weapons, material wealth, strong economies, strong governments, etc., are not the whole thing as one might expect. Many unexpected heroes emerged in the process, such as doctors, nurses and support staff of hospitals, accountable journalists, responsible employers, volunteers, and every anonymous individual at home, or on the field, who decided to be a genuine asset in the war against the virus. As another example, we are not fully aware how significant today in the age of internet (Information Age) refraining from fanning the flames of panic is, and how beneficial desisting from spreading rumors and false news could be. Cyber heroes – and villains – are as influential as any other frontline group. Thus, this unfortunate episode should be a lesson in the actual meaning and quality of life. People should be more sensible and pragmatic. They should revisit their life priorities, and re-evaluate their paths to happiness as the supreme goal of life. Life must not be a wasted opportunity, nor a set of illusions. COVID-19 teaches us that people do not need to go far and wide to find the source of ultimate joy, happiness and success, because that source is always there: at home and with family and friends. Likewise, to make a contribution to the welfare and interests of society and the whole world, people do not need to think and act necessarily big. Accordingly, it is rightly said that doing small things in a great way is akin to the act of doing great things itself, and that great things are done by a series of small things combined. Mother Teresa is reported to have said: “Be faithful in small things because it is in them that your strength lies.” The Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) said: “Take up good deeds only as much as you are able, for the best deeds are those done regularly even if they are few” (Sunan Ibn Majah). He also said: “Whoever is not grateful for small things will not be grateful for large things. Whoever is not thankful to people is not thankful to Allah. Discussing the blessings of Allah is gratitude and ignoring them is ingratitude” (Musnad Ahmad). The peril of spiritual and moral pandemics Along with fighting the COVID-19 pandemic, we must remember that there are many other pandemics that are equally, if not more harmful, requiring immediate attention. They are related to the realms of spirituality and morality. It is evident that people’s level of spiritual and moral integrity across the globe is at an all-time low. So much so that there is no metaphysical meaning, value, and sanctity that is appreciated, let alone followed, by the modern and postmodern hedonistic and nihilistic man. The only thing that matters is that such man’s self-obsessed interests and vain desires are satisfied. Apart from the personal ego and the styles of serving its wants, nothing seems to be sacred, nor honorable. Why to be otherwise, quite frankly, when God is “dead” and the truth is at once unknown and unknowable (the creed of agnosticism). People and nations will recover from COVID-19 and will move on. However, the spiritual and moral pandemics will rage uncontrollably. The wounds of the former will eventually heal, whereas those of the latter will go on multiplying, and will hurt most. Hence, COVID-19, when all is said and done, does not represent an apocalypse. The spiritual and moral pandemics do. With the former, Almighty God tests us, warns us, educates us, and rattles us in order to emerge better and stronger. With the latter, which is purely the doing of man, God denies us His favors and blessings. We are yet qualified to be punished thereby. In the former, furthermore, God is on our side. In the latter, we are left on our own; God is against us. By means of the former, we in addition can improve our lot in this world and the stakes of ours in the Hereafter. COVID-19 should be an eye-opener vis-à-vis the spiritual and moral plagues. Such is not the case, however, for the latter is so widespread and powerful that it functions as an eye-shutter vis-à-vis COVID-19, in which case neither is seen, nor comprehended, properly. Throughout COVID-19, the signs of people’s spiritual and moral decadence and malfunctioning keep emerging. At first, the general reaction of people to the crisis is one of shock and disbelief. It then turns into a temporary empathy and broad worry, morphing in the end into the personal sentiments of angst, fear, and depression. It is then that people start displaying their true colors. All masks fall off. That a great many people subscribe to the canons that “a man is a wolf to another man” and that “might is right” becomes manifest. The overall situation is somewhat reminiscent of the metaphor of a wolf in sheep’s clothing. Thus, the discourses about COVID-19 now increasingly involve such depressing issues and problems as panic-buying, hoarding, greed, egocentricity, fighting over food and other supplies, racism (Donald Trump called coronavirus the “Chinese Virus”) prompting some observers to declare that racism is detrimental to global solidarity amid COVID-19 battle, xenophobia, prejudice, discrimination, manipulation, frauds, spreading misinformation, conspiracy theories, etc. As painful as COVID-19 is, people should take it in their stride as much as possible. The Qur’an affirms: “…And it may be that you dislike a thing while it is good for you, and it may be that you love a thing while it is evil for you, and Allah knows, while you do not know” (al-Baqarah, 216).

Mix & Lcz

  • Pakistani #1 Chat Room - Its your Family chat Room -> Feel like Family.
  • Our community has been around for many years and pride ourselves on offering unbiased, critical discussion among people of all different backgrounds. We are working every day to make sure our community is one of the best.

Quick Navigation

User Menu