_^_ALi-ViRK_^_
Reaction score
33

Profile posts Latest activity Postings Media About

  • Pyas Wo Dil Ki Bujane Kabi Aya Bi Nahi
    Kesa Badal Hai Jis Ka koi Saya Bi Nahi
    Be Rukhi Is Se Bari Aur Bhla Kia Ho Gi
    Ik Mudat Se Hmain Us Ne Staya Bi Nahi
    Roz Aata Hai Dar-e Dil Pe Wo Dastak Dene
    Aaj Tak Ham NE Jise Pass Bulya Bi Nahi
    Sun Liya Kese Khuda Jane Zmane Bhar Ne
    Wo Fsana Jo Kabi Ham Ne Sunya Bi Nahi
    Tum Tu Shayar Ho Qateel Aur Wo Ik Aam Sa Shakhs
    Us Ne Chaha Bi Tuje Aur Jtaya Bi Nahi
    Har Shaks Se Ulfat Ka Iqrar Nhi Hota
    Har Chehre Se Dil Ko Kabi Pyar Nhi Hota
    Jo Roh Ko Cho Jae Jo Dil Me Utar Jae
    Us Ishq Ka Lafzon Me Izhaar Nhi Hota
    Jab Pyar Juda Ho To Ye Husn Bhi Veeran Hai
    Mehboob Bina Koi Singaar Nhi Hota
    Jo Ishq Me Mar Jae Samjho Wo Nagena Hai
    Ban Jae Wo Patthar Bhi Bekar Nhi Hota
    Kya Samjhoge Tum Humari Benaam Mohabbat Ko
    Ye Ishq Ka Sauda Hai Sar-e-Bazar Nhi Hota.
    قابل بنیں انگریز نہیں


    آپ ترکی اور ترک لوگوں کی ” جہالت ” کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ آپ کو شاید ہی پورے ترکی میں کوئی ایک ترک ڈاکٹر بھی ایسا نظر آئے جو انگریزی لفظ ” پین ” (درد) کے معنی جانتا ہو ۔ اگر آپ ترکی نہیں بول سکتے یا آپ کے ساتھ کوئی ترجمان نہیں ہے تو پھر آپکا ترکی گھومنا خاصا مشکل ہے ۔ آپ چین کی مثال لے لیں ماؤزے تنگ کی ” جہالت ” کا یہ حال تھا کہ انھوں نے ساری زندگی کبھی انگریزی نہیں بولی ۔ جب کبھی کوئی لطیفہ ان کو انگریزی میں سنایا جاتا ان کی آنکھوں کی پتلیوں تک میں کوئی جنبش نہیں ہوتی تھی اور جب کوئی وہی لطیفہ چینی زبان میں سناتا تو قہقہہ لگا کر ہنستے تھے ۔ وہ ہمیشہ بولتے تھے کہ چینی قوم گونگی نہیں ہے ۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو لے لیں ، ان کی ماں نے ساری زندگی گھروں میں کام کیا اور باپ نے اسٹیشن پر چائے بیچی وہ حالات کی وجہ سے گھر سے بھاگے دن رات محنت کے بعد گجرات کے وزیر اعلی بنے اور بعد ازاں ہندوستان جیسے عظیم الشان ملک کے وزیر اعظم بن گئے ۔ آپ نریندر مودی کی کوئی تقریر اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو وہ ہندی بولتے نظر آئینگے ۔ ہندوستان کی خود اعتمادی کا یہ حال ہے کہ ان کی وزیر خارجہ سشما سوراج تک اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہندی میں بات کرتی ہیں ۔ صدر ترکی طیب اردوگان پاکستان آئے سینٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے ترکی زبان میں خطاب کیا ، پاکستانی قوم ، وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کو یہ بھی بتا گئے کہ کسی قوم کی ترقی کی علامت اس کی غیرت ہوتی ہے انگریزی نہیں ۔ اور دوسری طرف ہم مرعوبیت کے اس درجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر ہمارا کوئی کرکٹر پاکستان سے باہر اردو میں بات کرلے تو ہم منہ چھپا چھپا کر ہنسنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اس کی پرفارمنس کو کرکٹ سے ناپنے کے بجائے انگریزی سے ناپتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس خوبصورتی کا معیار گورا رنگ اور قابلیت کا معیار انگریزی ہے ۔ ہمارے ملک میں بچوں کو اسکول میں داخل کروانے کا واحد مقصد انگریزی ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی میں حیران ہوتا ہوں کہ امریکا اور برطانیہ میں ماں باپ بچوں کو کیوں اسکول میں داخل کرواتے ہونگے ؟ ہماری ذہنی غلامی کا تماشہ دیکھیں ہم نےاسکولز تک کو انگریزی اور اردو میڈیم بنایا ہے ۔ قوم کا غریب اور زوال پذیر طبقہ اردو پڑھے گا جبکہ امیر اور پیسے والا طبقہ انگریزی۔ دنیا کی معلوم دس ہزار سالہ تاریخ میں کسی قوم نے کسی غیر کی زبان میں ترقی نہیں کی ۔ تخلیق ، تحقیق اور جستجو کا تعلق انگریزی سے نہیں ہوتا اور اگر آپ ان چیزوں کا تعلق بھی انگریزی سے جوڑ دینگے تو پھر وہی ہوگا جو اس ملک کے ساتھ ہورہا ہے ۔ آپ کو پورے ملک میں سوائے دو چار کے کوئی قابل ذکر سائنسدان ، کوئی تحقیق کرنے والا ڈاکٹر اور کچھ نیا ایجاد کرنے والا انجینئیر نہیں ملے گا ۔اس قوم کا نوجوان بھلا کیسے کچھ سوچ سکتا ہے جس کا واحد مقصد اپنی انگریزی درست کر کے اعلی نوکری حاصل کرنا ہو ۔ جو لکیر کا فقیر بن چکا ہو ۔ بے سوچے سمجھے بس رٹے لگائے جائے اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب ہمارے بچوں کو انگریزی آتی نہیں ہے اور اردو مشکل لگتی ہے ۔ آپ کسی بھی نوجوان کو راستے میں روکیں اور اس کو انگریزی میں ایک درخواست لکھنے کا بول دیں وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے گا ۔ اصل بیڑہ غرق اس موبائل فون کی رومن اردو نے کیا ہے ۔ ہماری نئی نسل تو اردو کے الفاظ تک لکھنا بھول چکی ہے ۔ حتی کے موبائل کمپنیز کے آفیشل میسجز تک رومن اردو میں موصول ہوتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا تک نہیں ہے ۔ بھائی ! دنیا میں اور کس زبان کے ساتھ یہ ظلم عظیم ہورہا ہے کہ اس کے فونٹس کی موجودگی میں آپ کو ” رومن ” لکھنے کی ضرورت پڑگئی ہے ؟ کسی میں دم نہیں ہے کہ واٹس ایپ یا میسج انگریزی مٰیں کرے ساری قوم اردو میں کرتی ہے لیکن ” رومن ” اردو میں ۔ پلے اسٹور سے ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اس پر اردو لکھنے میں کونسی جان جاتی ہے میں ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہوں ۔ ہمیں لکھنی بھی اردو ہے اور اردو میں بھی نہیں لکھنی ہے ۔ مجھے شا ذ و نادر ہی کوئی والدین ایسے ملے ہوں کہ جنھوں نے اپنے بچے کہ اخلاق ، کردار ، گفتگو اور تمیز تہذیب پر بات نہ کی ہو سارا وقت اس کی اخلاقی حالت کو روتے رہے اور آخر میں مدعا یہ ٹہرا کہ آپ کسی طرح اس کی انگریزی ٹھیک کروائیں ۔ میں نے اس ملک میں اور اس دنیا میں قابلیت کا کوئی نمونہ انگریزی کی وجہ سے نہیں دیکھا۔ چین ، جاپان ، ترکی ، جرمنی ، فرانس اور اب تیزی سے ابھرتا ہوا بھارت ان میں سے کونسے ملک نے انگریزی کی وجہ سے کامیابی اور ترقی کی منازل طے کی ہیں ؟ اسلئیے خدارا خود بھی قابل بننے کی کوشش کیجئیے اور بچوں کو بھی قابل بنایئیے انگریز نہیں.
    جس طرح آج تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈا،اسی طرح یہ بات بھی آج تک طے نہیں ہو سکی کہ شاعری انسان کو مرضِ بے خوابی(Insomnia)عطا کرتی ہے یابے خوابی انسان کو شاعر بناتی ہے ۔گمان غالب ہے کہ جب آدمی کو نیند نہیں آتی اور اس کے پاس کوئی دوسرا مشغلہ بھی نہیں ہوتا تو وہ شاعری شروع کر دیتا ہے،لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آدمی شاعری شروع کرے اور اس کی راتوں کی نیند حرام ہو جائے ،اس لیے کہ کبھی کبھی ایک مصرع یا ایک گرہ لگانے میں شاعر کو سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے ،لیکن شاعری صرف مرضِ بے خوابی ہی عطا نہیں کرتی ،بے خوابی سے کہیں زیادہ مہلک بیماریاں بھی شاعر کو لاحق ہو جاتی ہیں۔


    ہوایوں کہ ایک شاعر تھے۔

    ان کی شادی ہو گئی۔بیوی شاعری سے قطعاً نا بلد تھیں۔انھوں نے جب اپنے شوہرِ نامدار کو دل اور جگر کی خرابیوں کا تذکرہ گن گناتے سنا تو فوراً حکیم صاحب سے رجوع کیا اور حکیم صاحب نے ابلا کھانا،کھٹی بادی چیزوں کا پر ہیز اور چکنائی قطعاً ممنوع قرار دے دی اور بیوی نے حسبِ ہدایت حکیم صاحب شوہر کے لیے پر ہیزی کھانا پکانا شروع کر دیا ۔

    یہ ازدواجی زندگی میں ناچاقی کی ابتدا تھی۔پھر تو دونوں میں رات دن جھگڑے شروع ہو گئے۔شاعر جب بیوی کو اپنا کوئی شعر والہانہ انداز سے سناتے تو بیوی فرماتیں”بھلا آپ کو کیا فائدہ ہوتا ہے ایسی باتیں کرکے جن کا کوئی سرپیرنہیں ہوتا۔آپ بتائیے اگر کسی لڑکی کا قدسرو کے برابر ہو گا تو بھلا اس سے شادی کون کرے گا۔موئی پندرہ بیس فٹ لمبی لڑکی کا کیا کرے گا“۔


    اچھا یہ بتلائیے کہ بھلا سیاہ بالوں کو بادل کیوں کہتے ہیں ۔بادل توروئی کے گالوں کی طرح ہوتے ہیں ۔
    کیا واسطہ بھلا بالوں سے۔کیا بادلوں میں آنولہ ہےئرآئل ڈالا جاتا ہے یا ان میں جوئیں پڑتی ہیں یا ان کو شیمپو سے دھویا جاتا ہے ۔اچھی بھلی آنکھوں کو آپ کہتے ہیں میخانہ ،شراب کاجام ،ساغر۔اول تو یہ حرام چیزیں ہیں کسی مسلمان لڑکی کی آنکھوں کو حرام چیز سے تشبیہ دینا گناہ ہے دوسرے بادام برابر آنکھیں بھلا اتنا بڑا سا غریا میخانہ کیسے ہو سکتی ہیں ۔

    پھر آپ کہتے ہیں کہ گال سیب ہیں ،ہونٹ سنترے کی قاشیں ہیں، تولڑکی بیچاری کیا فروٹ سلاد ہے ۔اے اللہ نہ کرے۔پھر آپ پرائی بہو بیٹیوں کے بارے میں جو یہ اول فول لکھتے ہیں تو آپ نامحرم ہیں اور آپ کو بالکل زیب نہیں دیتا کہ شریف ناکتخداعورتوں کے بارے میں ایسی بے حیائی کی باتیں کریں ۔ا ب آپ نے وہ جوشعر سنایا تھا:
    وہ لجائے میرے سوال پر کہ اٹھا سکے نہ جھکا کے سر
    گری زلف چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے
    تو میں پوچھتی ہوں کہ بھلا ایسا بے ہودہ سوال کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہیں شریف خواتین سے ایسے سوال کیے جاتے ہیں اور اگر وہ غریب شرما گئی تو اس پر اعتراض کیوں کررہے ہیں اور وہ شعر:
    وصل کی صبح کا عالم ارے تو بہ توبہ
    نیند آنکھوں میں ہے انگڑائی پہ انگڑائی ہے
    تو آپ بتائیے کہ کسی کے گھریلو معاملات میں آپ دخل دینے والے کون اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انگڑائی پہ انگڑائی اس لیے آرہی ہے کہ وہ فارغ الوصل ہو چکی ہے تو کیا آپ ولیمہ کا انتظام کریں گے۔

    اول تو آپ کا انگڑائی کی حالت میں نظر ڈالنا ہی گناہ ہے کہ پتہ نہیں غریب دوپٹہ اوڑھے بھی ہے یاڈھلک چکا ہے ۔
    دوسرے یہ بھی ممکن ہے کہ رات وہ مچھروں کی بہتات کی وجہ سے نہ سو سکی ہو اور آپ نے اس پر ”وصل“کی تہمت لگادی ۔
    میں آپ سے کہتی ہوں ،یہ شریفوں کا چلن نہیں ہے۔
    میری سمجھ میں تو آپ کی شاعری بالکل نہیں آتی۔آپ نے کبھی میرے سامنے تو شراب نہیں پی،مگر آپ ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے آپ ہمیشہ نشے کی حالت میں رہتے ہوں ۔

    اللہ آپ کو اس بری عادت سے محفوظ رکھے،مگر جب پیتے نہیں تو پھر جھوٹ کیوں بولتے ہیں کہ:
    مجھے پینے دے پینے دے کہ تیرے جام لعلیں میں
    ابھی کچھ اور ہے ،کچھ اور ہے ،کچھ اور ہے ساقی
    مجھے بتائیے یہ کون ہے موئی ساقی جس کے ”جامِ لعلیں“سے آپ پینے کا سوچتے ہیں ۔میں اس کی وہ دُرگت بناؤں گی کہ پھر وہ اسپتال میں ڈاکٹروں کو پلا رہی ہوگی۔
    حالانکہ میں نے آپ کو کبھی کسی غیر عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتے ہوئے بھی نہیں پایا مگر آپ کی شاعری سے مجھے ڈرلگتا ہے ۔

    آپ نے ”محبوب ،محبوب“کی جورٹ لگا رکھی ہے اسے اللہ کے واسطے بند کیجیے۔پھر یہ موامحبوب ہے کون۔محبوبہ بھی نہیں بلکہ محبوب۔تو کیا وہ کوئی آدمی ہے ۔اوراگر آدمی ہے تو بھلا اس کے لب ،رخسار ،سینہ ،زلفیں، پلکیں،آنکھیں ،کمر آپ کے لیے پُر کشش کیسے ہو سکتی ہیں ۔میں کیا مرگئی ہوں۔ آپ ماشاء اللہ بال بچوں والے آدمی ہیں اپنا گھربار دیکھیے ،دوسروں کے گھروں میں جھانکنے سے کیا فائدہ ،اللہ سے ڈریے مجھے حیرت ہے کہ یہ غیرشرعی باتیں آپ اپنی غزلوں میں لکھ کر مشاعرے میں پڑھ دیتے ہیں اور لوگ بے غیرتی سے سنتے ہیں اور واہ واہ کرتے ہیں،اور پولیس بھی ان موئے شاعروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی جو علی الاعلان ایسی بے ہودہ باتیں کرتے ہیں ۔

    ماٹی ملے اللہ رسول کی باتوں پرواہ واہ کریں تو ٹھیک ہے لیکن وہ تو ایسے شعروں پر واہ واہ کرتے ہیں جیسے:
    اف تری چشمِ فسوں ساز کا انداز
    ہراک کو یہ گماں کہ مجھے دیکھ رہی ہے
    یہ تو کسی کوٹھے کا منظر ہے اور اس کی سیڑھیوں پر چڑھنا گویا اللہ مارے جہنم کا ایندھن بننا ہے یا پھر یہ شعر:
    محفل میں تم اغیار کو دزدیدہ نظر سے
    منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو
    اب اگر وہ غریب چوری چھپے بھی کسی غیر کو دیکھ رہی ہے تو آپ کو راز کھل جانے کا اندیشہ ہے ۔

    تو پھر اسے غیروں کے بیچ بیٹھنے کیوں دیا،وہ تو دیکھے گی ہی آنکھیں تو بند نہیں کرلے گی۔اگر شاعری ہی کرنا ہے اور اس کے بغیر آپ کا پیٹ نہیں بھرتاتو نعت لکھیے،حمد لکھیے اور اپنے گناہوں سے توبہ کیجیے۔
    اب بے چارہ شاعر کرتا تو کیا کرتا زندگی ضیق میں آگئی اٹھتے بیٹھتے یہ مصر عہ زیرلب بدبدانے لگا:
    شاعری چھوڑدے پیچھا میرا میں باز آیا
    زور سے بولنے میں خدشہ تھا کہ بیوی شاعری کے بجائے اپنے لیے یہ مصرعہ نہ سمجھنے لگے ورنہ ابھی تو نیند ہی نہیں آتی تھی اب کھانے پینے سے سکھ سویدھا سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے اور بیوی الگ اٹواٹی کھٹواٹی لے کر پڑجائے گی یا مائیکے جانے کی دھمکی دینے لگی گی۔
    KoN
    KoN
    Baba g kamal hi hogeyaa ... el oo el
    چالیس سال سے بڑی عمر کی کوئی عورت تمہیں کبھی رات میں جگا کر یہ نہیں پوچھے گی کہ تم کس کو خواب میں دیکھ رہے تھے؟ یا تم کس کے بارے میں سوچ رہے تھے کیونکہ وہ بہت خود اعتماد ہوتی ہیں اور عمر کے اس حصے میں پہنچ کر ان پر اتنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں کہ وہ تمہارے نئے عشق معاشقوں کی داستانیں نہیں سن سکتی. نہ ہی اسے کوئی فرق پڑتا ہے جب تم فٹ بال کا ٹورنمنٹ لگا کر پورا دن بیٹھے رہو گے .توہ روتی دھوتی نہیں پھریں گی کہ چینل بدلو، میری شکل دیکھو، وغیرہ وغیرہ…
    وہ جا کر کو ئی ایسا کام کریں گی جو تمہاری فٹ بال گیم سے کہیں زیادہ دلچسپ ہو گا. ایک عورت جب چالیس کی عمر کو کراس کر جاتی ہے تو اس کا زندگی کا اتنا تجربہ کا اتنا تجربہ ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنی ذات کو خود اہمیت دیتی ہے اسے باقی لوگوں سے تعریف کی کوئی ضرورت نہیں رہتی اور وہ خود جانتی ہے کہ وہ کیا ہے اور کیسی ہے.اسے لوگوں کی کسی قبولیت کی بھوک نہیں رہتی. ایک عورت جب اتنی بڑی عمر کی ہو جاتی ہے تو اسے اصل میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا خاوند کدھر کدھر منہ مارتا پھر رہا ہے. اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا…وہ کبھی کسی مہنگے ریسٹورنٹ یا کسی اوپرا تھیٹر میں تمہارے ساتھ چیختی چلاتی ہوئی نہیں ملے گی کیونکہ اس کو کیا کہ تم کیا گل کھلا رہے ہو. اس کی زندگی کے ڈھیر سارے کام کرنے کو پڑے ہیں وہ تمہارے ساتھ لڑائیوں میں وقت ضائع نہیں کر سکتی.چالیس سال سے زائد عمر کی خواتین عموماً بہت باوقار ہوتی ہیں اور وہ کسی کی کسی بات کو دل پر نہیں لیتی نہ ہی اپنے شوہر سے بے جا لڑائیاں مول لیتی ہیں. ان عورتوں میں حقیقت ، اصلیت اور گہرائی پیدا ہو چکی ہوتی ہیں. جب بھی کسی سے ملتی ہیں تو بغیر وجہ کہ دوسرے لوگوں کی تعریف کرتی ہیں اور حوصلہ افزائی کرتی ہیں اس لیے کہ جب وہ جوان تھیں تو انہوں نے خود محسوس کیا ہوتا ہے کہ لوگ ہمیشہ آپ کی ٹانگ

    کھینچتے ہیں اور آپ کو گراتے ہیں اور وہ اوروں کے ساتھ ایسی بے جا حق تلفی ہرگز نہیں کرتی ہیں. چالیس سال سے بڑی عورت تمہاری نس نس سے واقف ہوتی ہے تو جب خاوند کہیں اور منہ ماری کر کے تشریف لاتا ہے تو اسے اپنے کرتوت خود سے بولنے نہیں پڑتی وہ تمہاری شکل دیکھ کر جان جاتی ہیں کہ آج کس کے ساتھ کیا رنگ ریلیاں منا کر لوٹے ہو. وہ لڑائی اس لیے نہیں کرتیں کیونکہ تم اب اتنے اہم نہیں رہے . اور وہ تمہاری خامیوں کے با وجود تمہیں ساری عمر صرف برداشت نہیں کریں گی بلکہ تم سے پہلے دن جیسی محبت بھی کرتی رہیں گی.ایک عورت جب اتنی عمر گزار چکی ہوتی ہے تو وہ اپنے خاوند کے چھیڑنے پر بالکل چڑتی نہیں ہے.وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ اس کی کون کونسی جوان سہیلیوں کو تم چیل اور عقاب کی نظر سے گھورتے رہتے ہو. انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صرف وہی دوستیں زندگی میں بچی ہوتی ہیں جو نیت کا اخلاص رکھتی ہیں اور وہ تمہارے ساتھ مل کر اسے کبھی دھوکہ دے ہی نہیں سکتیں. اس عمر کی عورت بہت سنجیدہ مزاج کی ہو جاتی ہے اور وہ صرف سچ بولتی ہے. اسے اپنی شکل یاحلیے سے بہت کم فرق پڑتا ہے اور وہ لوگوں کو بالکل ایسے ہی دیکھتی ہے جیسے وہ درحقیقت ہوتے ہیں. وہ دھوکے نہیں کھاتی اور کسی قسم کے کامپلیکسز کا شکار نہیں رہتی.
    چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
    عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

    اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
    اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا

    ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
    اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا

    اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر
    بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا

    ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
    ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا

    میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو
    شہر کے شہر کو مرا واقف حال کر دیا

    چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے
    وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا

    مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
    منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا
    __♥__♥_____♥__♥___
    _♥_____♥_♥_____♥__
    _♥______♥______♥__
    __♥_____/______♥__
    ___♥____\_____♥___
    ____♥___/___♥_____
    ______♥_\_♥_______
    ________♥_________
    “We wish to become one thing or another, rather we wish to become everything and in this pursuit of becoming everything we only end up becoming idiots.”
    “As long as man was in the moolight he desired to reach the moon…there was bliss in the moonlight but the moon itself was distant. Moonlight was near but man longed for the moon…man reached the moon but there he was without moonlight.
    If one reaches the moon one does not find moonlight any longer and if one is in moonlight one does not find the moon. It is a strange fact that one is only because of the other…one is a sign of the other yet both are forever separate. If the Beloved is the Moon, moonlight is His remembrance. When the Beloved is present His remembrance is not and when His remembrance is present the Beloved is not. Proximity to one is distance from the other, Union with one is separation from the other. Thus union is hidden in every separation and separation in every union.”
    Pyar ka meetha “Ehsaas” dilane laga hai tu
    Ab to mujh se mujhi ko churane laga hai tu

    Teri chahtooN ka chaaya hai saroor is qadar
    Har pal har jagah nazar aane laga hai tu

    Veeraan thi yeh zindgi tere aane se pehle
    Khushiyoon ke sapne mujhe dhikane laga hai tu

    Har pal mujhe hota hai bas tera hi “Ehsaas”
    Is qadar meri saansoN mein samaane laga hai tu

    Naam koi bhi looN to naam aaye tera labooN pe
    Ban ke jadu meri rooh mein samaane laga hai tu

    Jany kaun si dor hai teri aur kheench le jaati hai
    Mujh ko apna deewana banaane laga hai tu

    Tere khayalooN se mehekne lagti hai zindagi meri
    Mere zehn-o-dil pe is qadar chhaane laga hai tu

    Yeh masoomiyat yeh bholapan yeh saadgi teri
    Mujh ko har adaa se ab satane laga hai tu

    Kya is baat ka tujhey “Ehsaas” hai “Jaan”
    Mere har sher mein har Gazal mein aane laga hai tu…
    ay mohabbat tere anjaam pe rona aaya

    jaane kyun aaj tere naam pe rona aaya

    yuun to har shaam umeedon mein guzar jati hai

    aaj kuchh baat hai jo shaam pe ronā aaya

    kabhī taqdeer ka matam kabhī duniya ka gila

    manzil-e-ishq mein har gaam pe rona aaya

    mujh pe hī ḳhatm hua silsila-e-nouha garī

    is qadar gardish-e-ayyaam pe rona aaya

    jab hua zikr zamane mein mohabbat ka 'Virk'

    mujh ko apne dil-e-nakaam pe rona aaya
  • Loading…
  • Loading…
  • Loading…
  • Loading…

Advertisement