terminated
Reaction score
932

Profile posts Latest activity Postings Novel Reviews Articles Media About

  • bey qadron main qadr talash o insaan tu karta phiray
    rul rul ke bhe manzil kahan milni bey manzil raasta phiray

    jay tu kar le faqeeri qadr daan* kii..
    phir qadr bhe tere farmaan phiray*​


    *(qadar daan matlab: Allaah subhanahu wa ta ala kii zaat)
    *mera zaati
    yeh char line ke shairi mere zehan main ess baat ko pardhne ke bad aaye:

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ

    "غیر اللہ سے صرف وہی ڈرتا ہے جس کا قلب بیمار ہو.

    'ایک شخص نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے شکایت کی کہ
    مجھے فلاں امیر سے ڈر معلوم ہوتا ہے.
    فرمایا
    اگر تیرا دل بیمار نہ ہوتا تو قطعاً خوف پیدا نہ ہوتا.
    یہ خوف دل کی بیماری کا نتیجہ ہے' "

    الکواکب الدریہ ص 94.​

    yeh jo darr hai dunya darii ka
    yehi tou beemarii hai dill kii..

    dil jo ho sehhatmand..
    tou na darr ho na gham..*

    *mere zati

    woh jo haya thi ho gayi tayar be-hijab honay ko..
    Lapki jo dunya tou ab phir cheek pukar kaisi?

    woh Jo thi chahti pa li tum ne..
    ab aah o baqa kaisi? yehi tou be hijaabi se milay.

    Kaash ke jaan leti Haya hijab ke lazat.
    ban jati khushi se ghurabaon* ke zeehnat.*

    *mera zati
    *Ghuraba reffer to this hadeeth: (Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace be upon him) said: Islam initiated as something strange, and it would revert to its (old position) of being strange, so good tidings for the stranger. [Sahih Muslim #270])
    Insaan gham e talash o hal dhundta phiray...
    Waqt e zayaan main waqt guzar ke tasali deta phiray..

    Na hoti gham e halkaan phir bhe koshish karta phiray..
    jab hosh aati tou kehta phiray... Haye kaash main mitti hota.*

    *mere zati
    ✍🏻 - ”مجھے میلاد منانے کی کوئی اصل کتاب و سنت میں نہیں ملی، نہ ہی علمائے امت کے ہاں کوئی سراغ ملا ہے۔ یہ فارغ لوگوں کی ایجاد کردہ بدعت اور پیٹ کے پجاریوں کی نفسانی خواہشات کا مظہر ہے۔“

    📝 |[ علامہ فاکہانی المالکی رحمه الله || المورد في عمل المولد : ٨ ]|​
    🍃 - *”میرے بھائیو! اخلاص بہت مشکل ہے۔ انسان دکھاوے اور خود پسندی سے بچ نہیں سکتا، خواہ تھوڑا ہی ہو، اللہ ہم سب کو بچائے۔ پس اپنے دل کو پاک کریں، اور اپنے عمل کو اللہ کیلیے خالص کریں، آپ اللہ کے بندے ہیں، مخلوق کے نہیں۔ وہی نفع و نقصان کا مالک ہے، وہی جنت و جہنم کا مالک ہے، اسی کے قبضے میں کائنات کی ہر شے ہے۔“*

    📚 [ فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمه الله || شرح مشكاة المصابيح : ١٤٣/١ ]
    طالب علم کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ مندرجہ ذیل امور سے اجتناب کرے : لہو و لعب، فضول کاری، مجالس میں ناشائستہ حرکات، کم عقلی دکھانا، قہقہے لگانا، نادر و شاذ چیزوں کا بہت زیادہ بیان کرنا، طنز و مزاح سے اس قدر زیادہ کام لینا کہ وہ عادت بن جائے۔ تھوڑے سے مزاح کی البتہ اجازت دی جا سکتی ہے جو دلچسپ اور نادر ہو۔ طریقِ علم اور حدِ ادب سے باہر نہ ہو۔ وہ مزاح جو شتر بے مہار، فحش، کم عقلی کا مظہر، غصے کو بڑھکانے والا اور شر انگیز ہو، قابلِ مذمت ہے۔ زیادہ ہنسی مذاق سے قدر گھٹتی ہے اور مروت برقرار نہیں رہتی۔

    [حافظ ابوبکر خطیب بغدادیؒ - الجامع (۱/۱۵۶)]
    ”ایسا مومن دوست تلاش کرو جو اللہ کی اطاعت میں تمہاری مدد کرے، تمہیں خیر پر ابھارے، شَر سے ڈرائے، تمہیں اس سے جب بھی پہنچے خیر ہی پہنچے۔“

    (مجموع الشيخ ربيع بن هادي المدخلي : 28)
    - ”وفا دار دوستوں کو ڈھونڈنا دشمن بنانے سے کہیں مشکل ہے۔ کسی کو دشمن بنانے میں لمحہ لگتا ہے، مگر سچے دوست کی تلاش میں عمر بیت جاتی ہے۔ جس کسی کو با وفا دوست مل جائے تو وہ اس دوستی پر گرہ باندھ لے!“

    ✍️ - |[ شیخ صالح العصيمي حفظه الله ]|
    [ افضل ترین انسان کون ہے؟! ] ♥️

    : سيدنا عبد ﷲ بن عمر رضي الله عنهما سے مروی ہے، کہا اے ﷲ کے رسول صلی ﷲ علیه وسلم کون سے لوگ افضل ہیں؟ آپ صلی ﷲ علیه وسلم نے فرمایا ?

    "ہر مخموم دل والا اور سچی زبان والا، صحابہ كرام - رضي الله عنهم - نے کہا سچی زبان والے کو تو ہم پہچانتے ہیں، مخموم دل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : ﷲ سے ڈرنے والا شفاف دل، جس میں گناہ نہ ہو، سرکشی نہ ہو، کینہ اور حسد نہ ہو۔"

    فوائد : دل و زبان کی طہارت و صفائی سے آدمی افضل ترین انسان بن جاتا ہے۔ جب دل میں نیک جذبات ہوں اور آدمی کا دل "قلب سلیم" ہو تو زبان بھی جھوٹ اور خرافات سے محفوظ رہتی ہے اور اس طرح آدمی درجۂ افضلیت پر فائز ہوتے ہوئے ﷲ تعالٰی کا محبوب بن جاتا ہے۔ وگرنہ جو شخص دل میں کینہ رکھے اور زبان کو جھوٹ اور فحش گوئی سے آلودہ رکھے، تو ایسا شخص ﷲ تعالٰی کی نصرت و رحمت سے عموماً محروم رہتا ہے۔

    ? سنن ابن ماجه : ❪٤٢١٦❫، صححه الألباني في سلسلة الأحاديث الصحيحة : ❪٩٤٨❫، مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ : ❪١١٤/١❫​
    کاغذ کی کشتی تھی،

    مٹی کا کنارہ تھا۔۔

    کھیلنے کی مستی تھی

    دِل یہ آوارہ تھا۔۔۔۔

    کہاں آ گئے اس سمجھداری کے دلدل میں

    ?? وہ نادان بچپن ہی کتنا پیارا تھا۔۔
    سنا تھا کہ فرشتے جان لیتے ہیں
    خیر چھوڑو !اب انسان لیتے ہیں

    دین توبڑی انمول چیز ہے خدا کی
    لوگ اسکا بھی اب دان لیتے ہیں

    اِس شہر منافق سے تنگ آ گیا ہوں میں
    آو کسی گاؤں میں کچا مکان لیتے ہیں

    بخشش جب ہے ترے اختیارمیں خدایا

    پھر لوگ کیوں اتنے امتحان لیتے ہیں

    ?? - اپنے وطن سے محبت کرنا ...❤️

    سیدنا انس رضي الله عنه فرماتے ہیں ✍

    « كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قدم من سفر فأبصر درجات المدينة أوضع ناقته وإن كانت دابة حركها ».

    رسول الله صلی الله عليه وسلم جب سفر سے مدینہ کی طرف لوٹتے اور مدینہ کے بالائی علاقوں پر نظر پڑتی تو اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے, کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اسے بھی ایڑ لگاتے.

    ? [ صحيح البخاري : ١٨٠٢ ]

    حافظ ابن حجر رحمه الله
    کہتے ہیں ✍

    « وفي الحديث دلالة على فضل المدينة، وعلى مشروعية حب الوطن، والحنين إليه ».

    یہ حدیث مدینہ کی فضیلت, وطن سے محبت کی مشروعیت اور وطن کے شوق پر دلالت کرتی ہے.

    ? [ فتح الباري : ٦٢١/٣ ]

    امام ابن بطال رحمه الل
    ه کہتے ہیں ✍

    « قد جبل الله النفوس على حب الأوطان والحنين إليها، وفعل ذلك عليه السلام، وفيه أكرم الأسوة ».

    یقینا اللہ تعالی نے جانوں کو وطن کی محبت اور اس کے بے پایاں شوق پر تخلیق کیا ہے. اور یہی نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے کیا, اور یہی بہترین نمونہ ہے.

    ? [ شرح ابن بطال : ٤٣٥/٤ ]

    امام ذهبي رحمه الله
    نے بہت سی چیزوں کا تذکرہ کیا کہ جن سے نبی کریم صلی الله عليه وسلم کو محبت تھی. اس میں فرمایا ✍

    « ويحب وطنه ».

    اور آپ صلى الله عليه وسلم کو اپنے وطن سے محبت تھی.

    ? [ سير أعلام النبلاء : ٣٩٤/١٥ ]

    نبی صلی الله عليه وسلم
    پر پہلی وحی کا آنا اور اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم کی ورقہ بن نوفل سے ملاقات کا واقعہ متعدد کتب میں مذکور ہے. امام سهيلي رحمه الله اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ✍

    « يؤخذ منه شدة مفارقة الوطن على النفس، فإنه سمع قول ورقة أنهم يؤذونه، ويكذبونه فلم يظهر منه انزعاج لذلك، فلما ذكر له الإخراج تحركت نفسه لحب الوطن، وإلفه، فقال : أو مخرجي هم ؟! ».

    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وطن کی مفارقت جان پر کتنی گراں گزرتی ہے, کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ورقہ سے یہ بھی سنا کہ مکہ کے لوگ آپ کو تکلیف دیں گے, آپ کی دعوت جھٹلا دیں گے لیکن آپ صلى الله عليه وسلم سے پریشانی کا اظہار نہ ہوا. مگر جب آپ کے نکالے جانے کی بات آئی تو وطن سے محبت و اُنس کی بنا پر آپ رہ نہ سکے اور بے ساختہ کہا : کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟!

    ? [ فتح الباري : ٣٥٩/١٢ ]

    یاد رکھیے! ⚠
    وطن سے محبت محض جھنڈیاں لگانے، پٹاخے پھوڑنے اور جشن منانے کا نام نہیں ہے. وطن سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے وطن کے معاملے میں اللہ سے ڈرا جائے. وطن کے استحکام اور امن و امان کا خیال رکھا جائے. وطنیت کے نام پر لبرلزم اور دین سے آزادی کی مغربی فکر سے خوب آگاہ رہا اور رکھا جائے. وطن کے اسلامی تشخص اور خیر کے پہلؤوں کو اجاگر کیا جائے اور ان کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنا جائے. اللہ تمام اسلامی اوطان کی حفاظت فرمائے اور انہیں خیر پر متحد کر دے.
    فی زمانہ کثرتِ طلاق کا سبب عورت کا مرد جیسا بننے کا خبط ہے، کبھی تعلیم کے نام پر، کبھی نوکری کے نام پر، کبھی آزادیِ نسواں کے نام پر۔ عورت کی عزت، اس کی آزادی اور اس کا خانگی تحفظ اس کے اللہ کی شریعت کے تابع رہنے میں ہے۔

    |[ شیخ صالح الفوزان حفظه الله ]|
    خوشامدی کے منہ میں مٹی ڈالو ?

    سيدنا مقداد بن اسود رضى الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله - صلی الله علیه وسلم - نے فرمایا?

    ”إذا رأيتم المدَّاحين فاحْثُوا في وجوههم التراب.“

    "جب تم خوشامد کرنے والوں کو پاؤ تو انکے چہروں پر مٹی ڈالو۔"

    [ صحيح مسلم : ٥٤٣٤ ]?

    امام خطابی رحمه الله فرماتے ہیں ?

    ”المدّاحون هم الذين اتخذوا مدح الناس عادة، وجعلوه بضاعة، يستأكلون به الممدوح ويفتنونه.“

    "خوشامدی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا طریقہ ہی لوگوں کی تعریفیں کرنا ہوتا ہے، تعریفوں کے ذریعے دوسروں سے اپنا مطلب نکالتے ہیں، اور انہیں فتنے میں ڈالتے ہیں۔"

    [ معالم السنن : ٤٧٤/٢ ]?
    Abdullaah Ibn Mas`ood رضي الله عنه said:

    ❝Whoever would like to meet Allaah tomorrow (i.e. on the Day of Judgment) as a Muslim, let him preserve these five (daily) prayer when the call (Adhaan) for them is given, for Allaah has laid down for your Prophet ﷺ the paths of right guidance, and these (prayers) are among the paths of right guidance. By Allaah, if each of you prays in his house, you will have abandoned the Sunnah of your Prophet ﷺ, and if you abandon the Sunnah of your Prophet ﷺ you will go astray. I remember when no one stayed behind from the prayer except a hypocrite who was known for his hypocrisy. I have seen that a man would be brought swaying (due to weakness) supported by two men till he joined the row (of worshipers). There is no man who purifies himself and does it well, and comes to the Masjid and prays there, but for every step that he takes, Allaah raises him in status one degree thereby, and takes away one of his sins thereby.❞

    ? [Saheeh Muslim and Sunan Ibn Maajah]
    ... یہ سب سے بُرا شعر ہے

    : ایک دفعہ امامِ لسانیات ابن الخشاب رحمه الله کے پاس دو شاعر آئے۔ آپ نے پہلے سے شعر سنا تو فرمایا
    "آپ کا شعر آپ کے ساتھی کے شعر سے زیادہ بُرا ہے۔"
    : وہ حیران ہو کر کہنے لگا
    : آپ یہ فیصلہ کیسے کر رہے ہیں جبکہ آپ نے میرے ساتھی سے تو سنا ہی نہیں؟ فرمایا
    "برخوردار! جو شعر آپ نے کہا ہے، اس سے بُرا شعر کوئی کہ ہی نہیں سکتا۔"

    (سير أعلام النبلاء للذهبي : ٦٥٢/١٢)

    #مزاحیات
    :رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا

    :جس نے کھانا کھایا اور پھر کہا

    الْحَمْدُ للہِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا، وَرَزَقَنِيهِ، مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ۔

    ساری تعریف اس اللہ کے لیے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور مجھے میری طاقت اور قوت کے بغیر یہ رزق دیا۔

    تو اس کے پہلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

    ? (مسند احمد : ۱۵۷۱۷، اسنادہ حسن)
    ... میری لکھائی سے بھی گندی لکھائی

    شافعی فقیہ صفی الدین ہندی رحمه الله ہنس مکھ آدمی تھے۔ کہتے ہیں : "میں نے ایک دفعہ بازار میں ایک کتاب دیکھی جس کی لکھائی مجھے اپنی لکھائی سے بھی گندی لگی۔ میں نے خاصے مہنگے داموں خرید لی، تاکہ اگر آئندہ کوئی شخص میری لکھائی کو برا کہے تو اس کو یہ کتاب دکھا کر عبرت دلاؤں۔ جب میں وہ کتاب لے کر گھر آیا تو وہ میری ہی پرانی لکھائی نکلی۔"

    (المختار المصون من أعلام القرون : ٢٠٠/١)

    #مزاحیات
  • Loading…
  • Loading…
  • Loading…
  • Loading…
  • Loading…
  • Loading…

Advertisement