بھوک․․․!

Fickle

Most-active member
Vip & Excellent
May 20, 2020
549
538
93
”آپ کو پتا ہے نا ماما مجھے چکن بروسٹ نہیں پسند میں نہیں کھاتی ۔ آپ نے پھر میری پلیٹ میں یہی ڈال دیا۔“مسز جمال کی بیٹی انم نے منہ بناتے ہوئے اپنی ماما سے کہا۔
”مجھے بھوک نہیں ہے ماما پھر میں کیوں کھاؤ؟میں نے نہیں کھانا یہ سب۔“ساتھ بیٹھے مسزانوار کے بیٹے نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اپنی ماما سے کہا،اور پلیٹ پیچھے دھکیل دی جس میں انواح و اقسام کے لذیز کھانے تھے۔

”کتنے المیہ کی بات ہے ناٹیبل پر اتنا کچھ ہوتے ہوئے بھی ہمارے بچوں کے نخرے․․․․․․․․کھانے کو اتنا کچھ ہے اور انہیں بھوک نہیں۔ہے نا عجیب بات۔“مسز انوار نے کچھ شرمندہ ہوتے ہوئے ٹیبل پر بیٹھی معزز خواتین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”ہاں ہے تو بھئی اب میری بیٹی للی ہی کو دیکھ لو جس دن چکن روسٹ بنے کہتی ہے میں نے مٹن کڑھائی کھانی ہے،اور جس دن کڑھائی بن جائے اس دن کہتی ہے میں نے تو شوارما کھانا تھا۔

ہنہ․․․ہا․․․اور کھاتی کچھ بھی نہیں،سب بن میں ہی جاتا ہے۔ جب پوچھو بنوایا تھا تو کھایا کیوں نہیں کہتی مجھے بھوک نہیں تھی۔very strange.۔“ان کے ساتھ ہی ٹیبل پر بیٹھی مسز ریحان نے ایک ادا سے لقمہ دیا۔
”ویسے آپ کی بیٹی کو چکن بروسٹ پسند نہیں لیکن آپ تو کھا سکتی ہیں ، پلیٹ میں نکال کر سامنے رکھے بیٹھی ہیں ۔“مسز انوار نے مسز جمال کو ہاتھ باندھے بیٹھے دیکھ کر اپنا ساڑھی کا پلو ایک ادا سے گھماتے کہا۔

”ہمنہ․․․بھئی پلیٹ میں ڈال تو لیا ہے مگر اب یہ بیکار ہی جائے گا میں آج کل بھوک کنٹرول رکھنے والے شیک پی رہی ہوں تو میری بھوک متوازن رہے،کافی وزن بڑھ رہا تھا،اس لیے میں تو اسے ہاتھ بھی نہیں لگاؤ گی۔ابھی ملازم آتا ہے تو کہتی ہوں اسے باہر پھینک دے۔“مسز جمال نے جوس کا گلاس اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔
”بیٹا آپ نے کھانا کھایا یہ لو ادھر بیٹھو اور یہ بریانی کھاؤ بہت مزے کی ہے۔

“مسزریحان نے اپنی بیٹی کو اپنی طرف آتا دیکھ کر کہا۔
”نہیں ماما آپ کو بتایا ہے نا میں ڈائیٹنگ کر رہی ہوں۔مجھے بھوک نہیں ہے،آپ کے پاس آجاؤ تو بس آپ․․․․․․․میں اپنا موبائل لینے آئی تھی یہاں۔“ان کی بیٹی اپنا موبائل اٹھا کر اپنی سہیلیوں کے ساتھ پر رونق لان کی گہما گہمی میں گم ہوگئی۔
”اف․․․․․یہ بد تمیز لوگ․․․․پتا نہیں کہاں سے منہ اٹھا کر چل پڑتے ہیں۔

جہاں کوئی تقریب ہوتی دیکھیں وہاں بھوکوں کی طرح کھڑے ہوکر ماحول کو بدصورت بنانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔idiots.“مسز ریحان نے اپنی بیٹی کے جملوں کی خفت مٹانے کے لیے مسز جمال کی دو ہزار گز کی کوٹھی کے بیرونی دروازے سے جھانکتے دو بچوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ان کی تقلید میں باقی خواتین نے بھی مڑ کر دیکھا ۔ان کے چہروں سے بدمزہ ہونے کا تاثر صاف ظاہر ہوا۔

”ہاں بھئی آپ سب لوگ انجوائے کر رہے ہیں،سب ٹھیک ہے نا؟“مسٹر جمال نے میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے ان خواتین کے ٹیبل کے پاس آکر اپنی مسزکے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
”ہاں بھئی تقریب تو خوب عالیشان ہے،باقی تو سب ٹھیک ہے بس ایک کمی لگ رہی ہے۔“مسز انوار نے بیرونی دروازے کی سمت دیکھا،ساتھ ہی مسز جمال اور جمال صاحب نے بھی،وہاں وہ بچے کسی نادیدہ مخلوق کی طرح آنکھوں میں حسرت لیے ہنوز موجود تھے۔

پتا نہیں یہ مسز انوار کا طنز تھا،حقارت جو بھی تھا مسٹر جمال نے برابر والی ٹیبل سے برتن سمیٹتے ملازم کو بلایا اور ملازم اور چوکیدار کو ایک گالی دیتے ہوئے سختی سے ملازم کو چوکیدار کی کلاس لینے کو کہا۔”یہ بھی باہر پھنکوا دیں۔“مسز جمال نے اپنے شوہر کی طرف بروسٹ کی پلیٹ بڑھاتے ہوئے کہا۔ملازم سر جھکا کر پلیٹ اٹھا کر چل پڑا۔
”اوئے بچہ لوگ کیا کر رہے ہو یہاں چلو بھاگو یہاں سے،اب ادھر نظر نہیں آنا مالک بہت غصہ کرے گا چلو بھاگو یہاں سے۔

“اس کے ساتھ ہی بچے بنگلے سے چند قدم پیچھے ہٹ گئے ملازم نے بنگلے کے سامنے بنے کچڑے کے ڈرم میں بروسٹ پھینکا مگر اس کا نشانہ چوک گیا اور مرغی کا بڑا سا پیس زمین پر گر گیا۔جس پر وہ دونوں بچے کسی چیل کوے کی طرح جھپٹے تھے۔وہ دونوں مرغی کے اس ٹکڑے کو پکڑے جھگڑ رہے تھے۔”اسے میں نے پہلے اٹھایا اسے میں کھاؤ گا۔“․․․․․․․”نہیں میں ذیادہ بھوکا ہوں اسے میں کھاؤ گا یہ میں نے پہلے اٹھایا تھا ۔“اور اسی کھینچا تانی میں وہ ٹکڑا ان کے ہاتھ سے دور جا گرا پھر پتا نہیں کہاں سے ایک کتا کس سمت سے نکل کر اس پر جھپٹا تھا۔کتا بڑی مہارت سے اپنے نوکیلے دانتوں سے اسے کترتا ہوا اپنی بھوک مٹا رہا تھا۔تقریب کی چمک اور آب و تاب اپنے عروج پر تھی۔​
 
  • Love
Reactions: Wolverine

Advertisement